21 برس کے نطفے سے پیدائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس برس پہلے منجمند کیے گئے انسانی نطفہ سے بچے نے جنم لیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس قدر طویل عرصے تک منجمد رہنے والے نطفے کا کامیاب استعمال عالمی ریکارڈ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ بچہ مانچسٹر کے سینٹ میریز ہسپتال میں دو برس قبل پیدا ہوا تھا جہاں کی ایک ڈاکٹر ایلزبیتھ پیز کے خیال میں اس قدر طویل عرصے تک منجمند رکھے گئے نطفے سے زندہ بچہ پیدا ہونے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس بچے کے والد نے سترہ برس کی عمر میں اپنا نطفہ منجمند کرایا تھا کیونکہ بعد میں خصیوں کے کینسر کے علاج کے باعث وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے تھے۔ اس بنا پر ڈاکٹر اب یہ کہہ رہے ہیں کہ نطفہ کو منجمند کر لینا نہ صرف محفوظ ہے بلکہ کارآمد بھی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات ’ہیومن ریپروڈکشن‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ والد کے نطفے کو اس وقت تک منجمد رکھا گیا جب انہوں نے شادی کر کے خاندان بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹروں نے بچے کی والدہ کو اس محفوظ نطفے سے حمل ٹھہرانے کی کوشش کی جو چوتھی بار میں کامیاب ہو گئی۔ سینٹ میریز ہسپتال کے سینیئر ایمبریالوجسٹ ڈاکٹر گریگ ہورن کے مطابق اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نطفے کو طویل عرصے تک منجمند رکھنا اس کی صحت اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر نہیں کرتا۔ لندن کے کنگز کالج ہسپتال کی ڈاکٹر ورجینیا بولٹن نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے لئے، جنہیں کینسر کے علاج کے پیش نظر کم عمری میں اپنے نطفے محفوظ کرانا پڑے، یہ خبر بہت خوش آئند ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||