| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آثار قدیمہ اور بارشیں
تحریر: نثار کھوکھر سندھ میں حالیہ طوفانی بارشوں نے جو تباہی مچائی اس کی ایک جھلک تو سامنے آگئی ہے لیکن جو نقصان موہن جو داڑو کے قدیم اثار کو پہنچا ہے اس کی شدت نہ تو حکومت نے محسوس کی ہے اور نہ ہی میڈیا نے۔ پانچ ہزار سال قبل مسیح کے یہ آثار قدیمہ لاڑکانہ سے ستائیس کلومیٹر دور دریائے سندھ کے قریب واقع ہیں جہاں زیر زمین پانی کی سطح اوسطاً زیادہ رہتی ہے۔ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے دوران لاڑکانہ اسی ملی میٹر بارش کا پانی ریکارڈ کیا گیا جس سے ان اثار قدیمہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہاں کی سب سے اونچی اور پرکشش جگہ سٹوپا کی کچی دیواروں سے بارش کا پانی نالیاں بنا کے گزر گیا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے چڑھائی گئی مٹی کی تہیں بھی اتر چکی ہیں اور اب اس کی اینٹوں آئندہ بارشوں اور سورج کی تپش کو براہ راست جھیلنا ہوگا۔ یہ سٹوپا اس تہذیب کے سب سے بڑہ پروہت کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ اس کے گرد بنے ہوئے رہائشی کمرے مشیروں کی آرام گاہ بتائے جاتے ہیں اور یہاں سے کھڑے ہوکر موہن جو داڑو کے تمام آثار قدیمہ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہاں کے ایک چوکیدار کا کہنا ہے کہ ’بارشیں اس قدر شدید تھیں کہ سٹوپا کے احاطے کے اندر پانی کچھ دن تک کھڑا رہا‘۔ اس سٹوپا سے بارش کے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |