پشاور: ایک اور سینما ہال مسمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی تاریخی شہر پشاور میں ایک اور قدیم عمارت کےگرائے جانے پر آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیمیں افسردہ ہیں۔ آخری لمحات میں اسے بچانے کی کوشش بےسود ثابت ہوئیں اور آج کل اس عمارت کو ہمیشہ کے لیے مٹایا جا رہا ہے۔ فلک سیر سینما پشاور صدر کے وسعت میں واقع ہے۔موجودہ وقت میں صدر کا یہ علاقہ پشاور کا سب سے مصروف اور تجارتی اعتبار سے انتہائی مہنگا بازار بن چکا ہے۔ تقریباً ستر برس پرانی یہ عمارت نہ صرف قدیمی اہمیت کی حامل ہے بلکہ شہر کے باقی رہ جانے والے چند سینما گھروں میں سے بھی ایک ہے۔ پشاور میں ستر کی دھائی کے آواخر میں وی سی آر کی آمد سے پہلے تک سینما کا کاروبار کافی پرکشش تھا۔ لوگ اپنی اہل خانہ کے ساتھ فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے۔ لیکن وی سی آر کی آمد سے سینما گھروں کی تنزلی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ وی سی آر کے بعد کیبل اور متحدہ مجلس عمل جیسی سخت گیر موقف والی حکومت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ ایم ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ سینما مالکان کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ یہ کاروبار بند کر کے کوئی اور کام شروع کر دیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال کا کہنا تھا کہ وہ سینما والوں کو کاروبار تبدیل کرنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں تاکہ بقول ان کے وہ ہلال روزی کمائیں۔ فلک سیر سینما کی پشت پر تکہ کباب کا کھوکھا چلانے والے علی زیب کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہے کہ یہ سینما ختم ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اگر ایک دو کا روزگار اس سے منسلک تھا اور نیا پلازہ بن جانے سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کا فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینما سے یہاں کا ماحول بھی خراب ہو رہا تھا۔ ’عجیب عجیب قسم کے لوگ آتے تھے، ٹکٹوں پر جھگڑا رہتا تھا۔‘ قریبی دوکان میں مزدوری کرنے والے عبدالحق کا کہنا تھا کہ سکول کالج کے بچے یہاں آکر وقت ضائع کرتے رہتے تھے۔’پہلے تو سینما والے انہیں ٹکٹ نہیں دیتے تھے لیکن بعد میں وہ بھی نرم پڑ گئے۔‘ ایم ایم اے نے سینما گھروں پر بڑے بڑے پوسٹر اور سائن بورڈ لگانے سے منع کر دیا تھا جبکہ محرم کے علاوہ رمضان اور دیگر اسلامی مواقعوں پر بھی انہیں اپنا کاروبار طویل مدت کے لیے بند رکھنے کی ہدایات دیتے رہتے تھے۔ فلک سیر سینما کی عمارت انیس سو تیس کی دھائی میں تعمیر کی گئی تھی اور اپنے وقت کی خوبصورت ترین عمارتوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ ماہرین کے خیال میں یہ ڈیکو آرٹ سے مزئین تھی۔ لیکن کاروباری نقصانات کی وجہ سے اس کے مالکان بظاہر کافی عرصے سے اس کی دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دے رہے تھے۔ اس سے عمارت انتہائی خراب حالت میں تھی۔ ایک ایک کر کے پشاور اپنی تاریخ، اپنی اہمیت اور اپنی انفرادیت رفتا رفتا کھو رہا ہے۔ بدلتے وقت سے مقابلہ کرنے کی اس کی سقت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ | اسی بارے میں ’غیرملکی فلمیں دکھانے دیں‘03 January, 2005 | پاکستان سینما گھروں کی ہڑتال ملتوی05 July, 2004 | پاکستان ہدایتکارہ ریما کی پہلی فلم تیار21 June, 2005 | پاکستان نیلم سینما کاپردہ ہمیشہ کے لیےگرگیا05 December, 2005 | پاکستان سینما مالکان: انڈین فلمیں ورنہ ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||