نیلم سینما کاپردہ ہمیشہ کے لیےگرگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے پہلےمظفرآباد کوئی بہت بڑا یا بہت ترقی یافتہ شہر نہیں تھا۔ یہاں تفریحی سہولتیں بھی بس واجبی سی ہی تھیں اور پورے شہر میں صرف ایک سینما تھا اور وہ بھی زلزلے کی نذر ہوگیا۔ زلزلے سے پہلے کے مظفرآباد کی آبادی دو لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے شہر میں صرف دو سینما گھر ہوا کرتے تھے۔ سن انیس سو ننانوے میں سنگم نام کا ایک سینما اس وقت ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا جب وہاں ایک بم دھماکے میں کئی افراد مارے گئے۔ گزشتہ چھ برسوں سے شہر میں صرف ایک سینما چل رہا تھا اور وہ بھی آٹھ اکتوبر کو زمیں بوس ہوگیا۔ ویسے آٹھ اکتوبر سے پہلے بھی ساڑھے چار سو سیٹوں کا نیلم سینما چل کیا رہا تھا، یوں سمجھیے کہ زبردستی چلایا جارہا تھا۔ سینما کے مالک طاہر رشید اچھے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ستر اور اسی کی دہائی کے وسط تک تو سینما میں چار چار شو چلتے تھے اور وہ بھی بھرے ہوئے لیکن بقول طاہر رشید کیبل ٹی وی اور ویڈیوکی دکانوں کے بعد توگزشتہ کئی سالوں سے سینما کا کاروبار بالکل ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار تو انہوں نے سینما بند بھی کردیا تھا لیکن بعد میں ملازمین کا خیال کرتے ہوئے اور سینما کے آس پاس کے دکانداروں کے اصرار پر دو سال پہلے اس کو کرائے پر دے دیا تھا۔ سینما شہر کی سب سے مصروف مدینہ مارکیٹ کے بیچ میں واقع تھا اور وہاں لگنے والی آخری فلم جہاد تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں سینما کا ٹیکنیکل روم اور اسکریننگ کی سہولیات بمعہ پروجیکٹر اور فلموں کی ذخیرے کے محفوظ رہا جب میں نیلم سینما کا ملبہ دیکھ رہا تو مجھے ایک قریبی دکاندار سراج دین نے بتایا کہ چونکہ سینما کے اندر نہ صرف یہ کہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں بچی بلکہ اس کا بچا کھچا ڈھانچہ اس قدر مخدوش اور خطرناک ہوچکا ہے کہ کوئی بھی اس کے اندر جانے کی ہمت نہیں کررہا۔ سینما کے عملے کے متعلق کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا کہ ان کا کیا ہوا لیکن عملے میں کوئی بھی فرد کم ازکم سینما کے ملبے میں دب کر ہلاک نہیں ہوا۔ سینما کی جگہ کیا چیز بنائی جائے گی کے سوال کے جواب میں طاہر رشید کہتے ہیں کہ ان کو آٹھ ماہ پہلے سینما کی جگہ شاپنگ پلازہ بنانے کی اجازت مل گئی تھی لیکن ایسی صورت میں کہ جب مظفرآباد کے پرانے حصے میں منہدم ہونے والی بہت سی عمارتوں کا نہ تو ملبہ ہٹایا گیا نہ ہی ان میں دبی ہوئی لاشیں نکالی گئیں تو طاہر رشید شہر کی تعمیر نو کے لیے بہت زیادہ پرامید نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شاید سینما کی جگہ اب خالی ہی پڑی رہے۔
قدیم مظفرآباد کے اسی حصے میں جب میں مدینہ مارکیٹ کے نیلم سینما کو دیکھ رہا تھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ سینما کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں۔ شہر کے اس پرانے حصے میں نہ جانے کتنی عمارتیں یوں زمیں بوس ہوچکی ہیں کہ ان کے رہائشی ان کے ملبے میں ہمیشہ کی نیند سو رہے ہیں اور پرانے شہر کی تنگ اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں ملبے کی صفائی کی مشینیں داخل نہیں ہوسکتیں۔ نتیجتاً ایسی عمارتوں سے آج تک بھی لاشوں کو نکالا نہیں گیا ہے۔ یوں شائد مظفرآباد کا کبھی مصروف ترین حصہ ایک اچھ خاصے قبرستان میں بھی بدل چکا ہے۔ | اسی بارے میں مظفرآباد سمیت کئی جگہ زلزلے کے جھٹکے28 October, 2005 | پاکستان مظفرآباد دورہ کی دعوت پر اختلاف25 May, 2005 | پاکستان مظفرآباد، سری نگر بس 7 اپریل سے16 February, 2005 | پاکستان لوگ مظفرآباد میں نہیں رہنا چاہتے13 October, 2005 | پاکستان مظفرآباد:جراثیم کُش سپرے، مسلح پہرے 17 October, 2005 | پاکستان مظفرآباد کے قریب ایک اور بس حادثہ14 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||