ٹیکسلا اور خواتین یونیورسٹی کا دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلز کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذہب حقانیت کی جانب رہنمائی کرتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات کی اصل روح نہ بیان کرنے کی وجہ سے دنیا میں نفرت اور غلط فہمیاں بڑھی ہیں۔ سکیورٹی خدشات کےتحت پشاور کے دورے کی منسوخی کے بعد شہزادہ چارلز نے اپنے دورے کا تیسرا دن ٹیکسلا کی سیر اور فاطمہ جناح وومنن یونیورسٹی راولپنڈی کے دورے میں صرف کیا۔
یونیورسٹی کی طالبات سے خطاب کے دوران شہزادہ چارلز کا کہنا تھا کہ’ایک سکیولر زمانے میں آپ بارہا یہ سنتے ہیں کہ مذہب دنیا میں تنازعات کی ایک بڑی وجہ ہے لیکن مذہب بذاتِ خود مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہبی تعلیمات کا ظاہری پہلو سامنے رکھا جائے اور اس کی اصل روح کو نہیں سمجھا جائے اور یہی وہ چیز ہے اور مختلف مذاہب اور فرقوں میں تنازعات کی وجہ ہے۔‘ شہزادہ چارلز نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی تاریخ، اپنے معاشروں اور باہمی مفادات کی مدد سے جڑے ہوئے ہیں اور ہمارا یہ تعلق پائیدار ہے کیونکہ اس کی بنیاد باہمی بھروسے اور احترام پر ہے۔‘ شہزادہ چارلز اور ان کی اہلیہ نے تاریخی مقام ٹیکسلا کا بھی دورہ کیا جس کے دوران انہیں اس تاریخی مقام کی اہمیت اور گندھارا تہذیب کے بارے میں بتایا گیا۔ شہزادہ چارلز کے راولپنڈی اور ٹیکسلا کے دورے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ یاد رہے کہ برطانوی ولی عہد اپنے اس دورۂ پاکستان کے دوران عوام سے ملنے کے بھی خواہاں تھے لیکن پیر کو باجوڑ میں ہونے والے واقعے کے بعد ان تک عام آدمی کی رسائی تقریباً ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ |
اسی بارے میں چارلز: پشاور کا دورہ منسوخ31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||