ایک ووٹ انکور واٹ مندر کو بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت جب محبت کی نشانی تاج محل کو دنیا کے نئے سات عجائب میں شامل کرانے کی مہم زوروں پر ہے، ہندوستان کی ہندو نواز تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے کمبوڈیا کے قدیم انکور واٹ مندر کو بھی ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کے اخبار’ آرگنائزر‘ میں کہا گیا ہے کہ اگر تاج ووٹ کا حق دار ہے تو اس کے لیے ووٹ کرتے وقت مندر کے لیے بھی ووٹ ڈالنا چاہیے۔ ’بلا شبہ تاج کو نئے عجائب میں شامل کرنے کے لیے جو مہم چلائی گئی ہے اس میں ہمیں حصہ لینا چاہیے، لیکن تمام ہندوستانیوں اور دنیا بھر کے ہندوؤں کے لیے اتنا ہی اہم کمبوڈیا میں واقع انکور واٹ مندر بھی ہونا چاہیے۔‘ کمبوڈیا کا انکور واٹ دنیا کا سب سے بڑا مندر مانا جاتا ہے جو تقریبا دو سو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں مختلف سائز اور نقش و نگار کے تقریباً تین سو مندر شامل ہیں۔
عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں یہ سب سے بڑی عمارت ہے جسے سنہ گیارہ سو تیرہ اور اور گیارہ سو پچاس کے درمیان راجہ سوریہ ورمن ثانی نے تعمیر کروایا تھا۔ اس مندر کو خمیر فن تعمیر کا نمونہ کہا جاتا ہے۔ دنیا کے سات نئے عجائب کے انتخاب کے لیے سوئس تنظیم’ نیو سیون ونڈرز فاؤنڈیشن‘ نےاکیس شاہکاروں کی جو فہرست تیار کی ہے اس میں تاج محل کے ساتھ ساتھ یہ مندر بھی شامل ہے۔ اس کے لیے آن لائن اور موبائل فون کے ذریعے ووٹنگ کروائی جاری ہے۔ اس کے نتائج کا اعلان سات جولائی کو کیا جائےگا۔ وشو ہندو پریشد کے صدر آچاریہ گری راج کشور کا کہنا ہے کہ’ اگر انکور واٹ مندر سات عجائب میں شامل ہوجائے تو اس کے تحفظ کا مسئلہ حل ہوجائےگا، اتنی خوبصورت اور قدیم عمارت کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔‘
آچاریہ گری راج کشور کا کہنا تھا کہ ہندوستانی حکومت ملک کے اندر کے اثاثوں کی حفاظت نہیں کرپاتی ہے تو وہ بیرونی ممالک میں ہندوؤں کی علامات کی حفاظت کیسے کریگی۔ آر ایس ایس کے مطابق انگکور واٹ مندر ملک کے باہر ہندوستان کے شاندار کلچر کی علامت ہے۔ ’افغانستان میں بامیان میں مہاتما بودھ کے مجسموں کی مسماری کے بعد ہندوستان سے باہر انکور واٹ مندر ہی ہندو کلچر کی اہم نشانی بچی ہے۔ ووٹنگ کے خاتمے میں اب وقت کم بچا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس میں تاج محل کی پوزیشن زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ویسے آخری مرحلے میں تاج کے لیے ووٹ پڑنے لگے ہیں اور خبروں کے مطابق اسے تین کروڑ ووٹ مل چکے ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی عوام میں اس کے حوالے سے کوئی جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف برازیل کے صدر نے ریڈیو پر عوام کو ریو ڈی جنیرو میں واقع مسیحی مجسمے کو عجائبات میں شامل کروانے کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار بتایا ہے اور پیرو کی حکومت نے اپنے قدیم شہر ماچو پیچو کو اس فہرست میں شامل کروانے کے لیے عوامی مقامات پر کمپیوٹرز لگائے ہیں تاکہ عوام آن لائن ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ ہندوستان کے بعض نجی ٹی وی چینلز نے عوام سے تاج محل کے لیے ووٹ کی اپیل کی ہے۔ موسیقار اے آر رحمان نے اس کے لیے ایک نغمہ بھی تخلیق کیا ہے لیکن بعض حلقوں کے مطابق یہ کوششیں کافی تاخیر سے کی گئی ہیں۔ |
اسی بارے میں تاج محل:’ اتنا بھی عجوبہ نہیں‘19 June, 2007 | انڈیا افغانستان کی نادر تصاویر22 March, 2005 | آس پاس بامیان کےمجسموں کی لیزر شبیہ10 August, 2005 | فن فنکار تاج محل چاندنی رات میں بھی کھلا27 November, 2004 | انڈیا دنیا کے سات نئے عجائبات کا انتخاب 02 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||