’شاندار‘ بدھا کی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے دور دراز شمال وسطی علاقے کے ایک غار میں بارہویں صدی کی بنی ہوئی بدھاکی پینٹنگز دریافت ہوئی ہیں۔ تحقیق کاروں نے یہ دریافت ایک چرواہے کے غار کے متعلق بتانے کے بعد کی ہے۔ غار میں ایک مورال ملا ہے جس کے 55 پینل ہیں اور ان پر بدھا کی زندگی کے مختلف ادوار دکھائے گئے ہیں۔ میورل ایک قسم کی ایک بہت بڑی پینٹنگ ہوتی ہے جس پر تصویروں کی مدد سے کوئی کہانی سی بتائی جاتی ہے۔ میورل کو مارچ میں دریافت کیا گیا تھا اور تحقیق کاروں کو برف کو توڑ کر غار تک جانا پڑا تھا۔ یہ دریافت کھٹمنڈو کے شمال مشرق میں 250 کلومیٹر کے فاصلے پر مستنگ کے علاقے میں ہوئی۔ امریکی مصنف اور عمارتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے برؤٹن کوبرن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہم نے جو دریافت کی ہے وہ ثقافت اور ورثے کے حوالے سے بڑی شاندار ہے۔‘
کوبرن نے کہا کہ بنیادی میورل آٹھ میٹر چوڑا ہے اور ہر پینل تقریباً 35x43 سینٹی میٹر بڑا ہے۔ یہ دریافت ہمالیہ کے شمال میں 14,000 فٹ کی بلندی پر ہوئی ہے۔ تحقیق کاروں کی ٹیم میں نیپال، اٹلی، اور امریکہ کے فلمساز، کوہ پیما اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین شامل ہیں۔ غار دریافت کرنے والے چرواہے نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ اس نے یہ غار کئی سال پہلے دیکھا تھا کہ جب وہ بارش سے پچنے کے لیے وہاں داخل ہوا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ غاروں کا ایک سلسلہ تھا جس میں کئی گھنٹے تک چلا جا سکتا تھا۔ ایک قریبی غار سے تبتی زبان میں لکھے ہوئے نسخے دریافت ہوئے ہیں جن کی تصاویر اتار لی گئی ہیں تاکہ بعد میں ان کا ترجمہ کیا جا سکے۔ بنیادی مورال کے علاوہ کئی دوسری پرانی پینٹنگز بھی دریافت ہوئی ہیں۔ یہ دریافت اس پہاڑی علاقے میں ہوئی ہے جو صدیوں پہلے نیپال اور تبت کے درمیان ایک اہم گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ | اسی بارے میں چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم 13 April, 2006 | آس پاس ’مندر نہیں بناتے، مدد کرتے ہیں‘11 January, 2005 | آس پاس ’ہالی وُڈ بدھا‘ کے خلاف احتجاج13 September, 2004 | فن فنکار توہین آمیز بکنیوں پر پابندی11 June, 2004 | آس پاس سب سے پرانی چھپی ہوئی کتاب09 May, 2004 | فن فنکار راہب کے پیار پر گانا متنازعہ21 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||