پشاور میوزیم کی سو سالہ تقریب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پشاور کے قدیم عجائب گھر کی سو سالہ تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے۔ عجائب گھر کی تقریبات آٹھ سے تیرہ جنوری تک منائی جائیں گی جس کے دوران سیاحوں کے لیئے شہر کے ٹانگوں میں سیر اور تقریری مقابلے کے علاوہ ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔ ماضی میں مذہبی جماعتیں بتوں اور مجسموں کی مخالف رہی ہیں اس وجہ سے یہ تقریبات کافی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ہمسایہ ملک افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں طالبان نے حکومت میں آنے کے بعد بامیان میں مہاتما بدھ کے مجسمے کو بموں سے اڑا دیا تھا۔ تاہم صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کا اس اعتبار سے رویہ کافی مختلف رہا ہے۔ اس نے طالبان کے برعکس اپنے دورِ اقتدار میں صوبے میں عجائب گھروں کی تعداد ایک سے بڑھا کر سات کر دی ہے۔ ان میں کئی پر کام ابھی جاری ہے۔ پشاور کا عجائب گھر انیس سو چھ میں برطانوی ملکہ وکٹوریا کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت اسے وکٹوریا میموریل ہال کا نام دیا گیا لیکن انگریزوں کے جانے کے بعد اسے پشاور میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس وقت دنیا میں اگر کہیں گندہارا تہذیب کے سب سے زیادہ نوادرات دیکھنے کو ملیں گے تو وہ یہیں ہیں۔ یہ عجائب گھر دنیا میں گندھارا تہذیب کے نوادرات کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے جس میں بدھا کے کئی قدیم مجسمے بھی شامل ہیں۔ یہاں بدھا کی کہانی اس کے مجسموں کی زبانی موجود ہے۔ چار ہزار سے زائد گندھارا کے نوادرات کے علاوہ دیگر تہذیبوں کے آثار قدیمہ بھی یہاں موجود ہیں۔ عجائب گھر کے ماضی میں سولہ برس تک ڈائریکٹر کے فرائض انجام دینے والے پروفیسر فدا اللہ سحرائی نے عجائب گھر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لاہور، کلتکہ یا لندن کے عجائب گھروں میں گندھارا سے متعلق جو بھی نوادرات آج ہیں وہ یہیں سے لے جائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا: ’آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ بدھ مت کے جتنے بھی بڑے بڑے ماہر تھے وہ یہاں کیوریٹر رہ چکے ہیں۔ یورپ یا دنیا میں جہاں بھی کوئی گندھارا ثقافت پر تحقیق کرنا چاہتا ہے تو اس کا پشاور آنا لازمی ہے‘۔
موجودہ صوبائی حکومت دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل پر مشتمل ہے۔ ان کے زیر اہتمام ان تقریبات کا انعقاد بظاہر سوچ میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ البتہ صوبائی وزیر ثقافت حسین احمد کانجو کا کہنا ہے کہ یہ غیرملکی سیاحوں کو واپس لانے کی بھی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا دیکھے کے یہ صوبہ نہ صرف قدرتی حسن بلکہ ثقافت اور تاریخ میں بھی مالا مال ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ غیرملکی سیاح اسے دیکھنے ماضی کی طرح بڑی تعداد میں دوبارہ آئیں‘۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے پشاور عجائب گھر میں جاپان، کوریا اور چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی آئی تھی۔
صوبائی حکومت نے فیس کے بدلے عجائب گھر میں تصاویر اور ویڈیو بنانے پر پابندی بھی ختم کر دی ہے۔ اس کا مقصد عجائب گھر کی پبلسٹی ہے۔ سرحد حکومت نے ایک اور اہم اعلان لاہور کے عجائب گھر میں مہاتما بدھ کے ایک قیمتی مجسمے پر سرحد کی ملکیت کا مسئلہ دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ بھی ہے۔ ماضی میں عدالت کے ذریعے یہ مجسمہ واپس لینے کی ایک کوشش ناکام ہوئی تھی تاہم اب صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ مناسب تیاری کے ساتھ پنجاب کے حکام سے بات کی جائے گی۔ | اسی بارے میں پاکستان میں ای میوزیم29 June, 2004 | پاکستان نوادرات منتقل کرنے کی اجازت17 December, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم کی تعمیر، آثار قدیمہ کی تباہی09 December, 2006 | پاکستان نوادررات کی کھیپ پکڑ لی گئی18 November, 2006 | پاکستان نوادرات اسمگل کرنے کی کوشش24 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||