نوادرات منتقل کرنے کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کراچی میں محفوظ ان کے زیر استعمال رہی اشیاء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔ سندھ سے مختلف نوادرات اسلام آباد میں بنائے گئے ’نیشنل میوزیم‘ منتقل کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف سندھ سے تعلق رکھنے والے ستر کے قریب ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے قائد اعظم سے متعلقہ نوادرات نیشنل میوزیم منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ دوسری نوادرات کے حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی جو اشیاء اسلام آباد منتقل کیے جانے کا امکان ہے ان میں ان کے لباس ، فرنیچر، اور کراکری وغیرہ شامل ہیں۔ سندھ سے نوادرات اسلام آباد منتقل کرنے کے اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والوں میں شامل فہیم زمان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ محکمہ آثار قدیمہ کا رویہ کبھی اچھا نہیں رہا اور یہاں کے تاریخی نوادرات کو اسلام آباد اور لاہور منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں نوادرات کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے ان کی نقول تیار کر کے نمائش کے لیے رکھی جاتی ہیں، لیکن یہاں انہیں غیر محفوظ طریقے سے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ فہیم زمان کے مطابق اس طرح یہ قیمتی نوادرات شکست و ریخت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ’دوسرا اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اصل چیزیں لندن کے نیلام گھروں میں نہیں بلکہ اسلام آباد ہی پہنچیں گی‘۔ | اسی بارے میں نوادررات کی کھیپ پکڑ لی گئی18 November, 2006 | پاکستان ’طیارہ فوجی اڈے پرغلطی سےاترا‘16 December, 2005 | پاکستان نوادرات اسمگل کرنے کی کوشش24 June, 2005 | پاکستان جناح: بھارت کی نظرمیں 07 June, 2005 | پاکستان دختر قائد مزار قائد پر26 March, 2004 | پاکستان قرآن گیلری عدم توجہی کا شکار25 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||