دختر قائد مزار قائد پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ایک منفرد جذباتی منظر ہوگا کہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی بار ایک بیٹی اپنے باپ کے مزار پر حاضری دینے آئی ہو،اس باپ کے مزار پر جسے اس نےباپ کی زندگی کے آخری برسوں میں دیکھا ہوگا نہ ملی ہوگی۔ اسی لئے دیناواڈیا نے اپنے باپ کے مزار پر حاضری کو ایک قطعی نجی مصروفیت رکھا، اس باپ کے مزار پر جسے دنیا قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے۔ انہوں نے، حکام کے مظابق، اس خواہش کا اظہار کیا، اصرار کی حد تک، کہ ان کی حاضری کے وقت مزار پرکوئی فوٹوگرافر موجود نہیں ہونا چاہئے ورنہ وہ واپس چلی جائیں گی۔
دیناجناح نے، قائد اعظم کی مرضی کے خلاف واڈیا خاندان میں شادی کرلی تھی اور اس کے بعد باپ بیٹی کے تعلقات کشیدہ ہی نہیں ختم ہوگئے تھے۔ دینا 1948ء میں قائد اعظم کے جنازے میں شریک ہونے پاکستان آئی تھیں اور 56 سال بعد اب آئی ہیں، بھارت اور پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے جو انہوں نے اپنے خاندان کےساتھ لاہور میں دیکھا۔ وہ وہاں سے واپس نہیں گئیں بلکہ اپنے والد کے مزار پر حاضری دینے کراچی آئیں، ان کے جذبات نے انہیں پاکستان آکر باپ کے مزار پر حاضری دیئے بغیر واپس نہیں جانے دیا۔ مزار پر فوٹوگرافروں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی مگر کسی کو اس موقع پر اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ دینا واڈیا نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی جذباتی کیفیت جس نے انہیں یقیناً مغلوب کرلیا ہوگا کوئی دیکھے اور اس کی تشہیر ہو۔ دینا واڈیا نے قائداعظم کی تین تصاویر پسند کیں، جن کی نقول انہیں جلدہی بھیج دی جائیں گی۔ یہ تصاویر انہیں اپنے والد کی یاد دلاتی رہیں گی کہ یہ ان کے خواب پاکستان سے انہیں ملی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||