BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 March, 2004, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دختر قائد مزار قائد پر

کراچی
دینا واڈیا کراچی میں
یہ ایک منفرد جذباتی منظر ہوگا کہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی بار ایک بیٹی اپنے باپ کے مزار پر حاضری دینے آئی ہو،اس باپ کے مزار پر جسے اس نےباپ کی زندگی کے آخری برسوں میں دیکھا ہوگا نہ ملی ہوگی۔

اسی لئے دیناواڈیا نے اپنے باپ کے مزار پر حاضری کو ایک قطعی نجی مصروفیت رکھا، اس باپ کے مزار پر جسے دنیا قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے۔ انہوں نے، حکام کے مظابق، اس خواہش کا اظہار کیا، اصرار کی حد تک، کہ ان کی حاضری کے وقت مزار پرکوئی فوٹوگرافر موجود نہیں ہونا چاہئے ورنہ وہ واپس چلی جائیں گی۔

جناح کی بیٹی کراچی میں
 ” یہ میرے لئے ایک دکھ بھرا شاندار (دن) تھا۔ اُن کے خواب کو پورا کیجئے”۔
دینا واڈیا

دیناجناح نے، قائد اعظم کی مرضی کے خلاف واڈیا خاندان میں شادی کرلی تھی اور اس کے بعد باپ بیٹی کے تعلقات کشیدہ ہی نہیں ختم ہوگئے تھے۔ دینا 1948ء میں قائد اعظم کے جنازے میں شریک ہونے پاکستان آئی تھیں اور 56 سال بعد اب آئی ہیں، بھارت اور پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے جو انہوں نے اپنے خاندان کےساتھ لاہور میں دیکھا۔

وہ وہاں سے واپس نہیں گئیں بلکہ اپنے والد کے مزار پر حاضری دینے کراچی آئیں، ان کے جذبات نے انہیں پاکستان آکر باپ کے مزار پر حاضری دیئے بغیر واپس نہیں جانے دیا۔

مزار پر فوٹوگرافروں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی مگر کسی کو اس موقع پر اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

دینا واڈیا نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی جذباتی کیفیت جس نے انہیں یقیناً مغلوب کرلیا ہوگا کوئی دیکھے اور اس کی تشہیر ہو۔
مزار پر وزیٹربک میں انہوں نے اپنے جذبات ظاہر کئے گو مختصراً ___ انہوں نے لکھا” یہ میرے لئے ایک دکھ بھرا شاندار (دن) تھا۔ اُن کے خواب کو پورا کیجئے”۔

دینا واڈیا نے قائداعظم کی تین تصاویر پسند کیں، جن کی نقول انہیں جلدہی بھیج دی جائیں گی۔ یہ تصاویر انہیں اپنے والد کی یاد دلاتی رہیں گی کہ یہ ان کے خواب پاکستان سے انہیں ملی ہیں۔
دینا واڈیا نے قائدکی شیروانی بھی دیکھی اور کہا کہ وہ اس کے دوزی کو جانتی تھیں۔ واقفیت کا یہ اظہار گزرے، بیتے دنوں کی یاد کا عکس ہے جو ہمیشہ دینا کے ساتھ رہا ہوگا، رہتا ہوگا۔
وہ باپ کی زندگی میں ان سے الگ ہوئیں اور تقریباً ساٹھ سال بعد ان کے مزار پر حاضر ہوئیں۔ ان کی جذباتی کیفیت کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے اسے محسوس ہی کیا جاسکتا ہے دیکھا نہیں جاسکا۔
باپ کی محبت انہیں فلیگ اسٹاف ہاؤس لئے گئی جہاں انہوں نے قائداعظم کے نوادرات دیکھے، وہ موہٹا پیلس گئیں جہاں کبھی ان کی پھوپھی محترمہ فاطمہ جناح رہتی تھیں اور وہ وزیر مینشن گئیں جہاں ان کے والد پیدا ہوئے تھے۔
اس دورے سے دینا واڈیا کو کچھ تسلی ہوئی ہوگی، مگر دینا جناح کی زندگی میں ساٹھ برس پہلے ہونے والی تبدیلی کا مداوا شاید ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد