BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ

انتظامیہ کو معلوم ہے کہ خطوط بھیجنے میں کون لوگ ملوث ہیں: مقامی لوگ
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ایک مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں سی ڈیز فروخت کرنے والی پینتیس دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ فلموں کی سی ڈیز فروخت کرنے والے دکانداروں کو مبینہ دھمکی آمیز خط میں دی گئی ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوا ہے اور اس میں کُل پچاس دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سوات کے ایس ایس پی محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب چار بجے مینگورہ بازار کے وسط میں واقع علی مارکیٹ میں ہوا۔ان کے بقول دھماکے کی وجہ سے دکانیں اندر سے کافی تباہ ہوئی ہیں اور سامان بکھرا پڑا ہے۔

ایس ایس پی کے بقول دھماکہ اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ہوا ہے جو ایک مبینہ خط میں سی ڈی کا کاروبار کرنے والے دکانداروں کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ پندرہ دن کے اندر اپنا کاروبار سمیٹ لیں۔ایس ایس پی کا دعویٰ ہے کہ دھماکے کےوقت پولیس بازار میں گشت کررہی تھی مگر نامعلوم افراد نے مارکیٹ کےعقب میں واقع ایک تنگ گلی سے داخل ہوکر بم نصب کیا تھا۔

متاثرہ مارکیٹ کے مالک حیدر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے اڑتالیس دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں جبکہ قریب واقع ایک اور مارکیٹ میں پندرہ دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

کوئی تحفظ نہیں
 چودہ دن قبل دکانداروں نے مبینہ دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو صورتحال سےآگاہ کرد یا تھا اور ایک پریس کانفرنس کے دوران سی ڈی کا کاروبار ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا
متاثرپ مارکیٹ کے مالک

حیدر علی کے بقول دھماکے میں سی ڈی فروخت کرنے والی پندرہ دکانوں سمیت نانبائی، موبائل، الیٹرانکس کی تریسٹھ دکانیں مکمل تباہ ہوئیں یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

حیدر علی کا مزید کہنا تھا کہ چودہ دن قبل دکانداروں نے مبینہ دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو صورتحال سےآگاہ کرد یا تھا اور ایک پریس کانفرنس کے دوران سی ڈی کا کاروبار ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن بقول انکے اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ ضلع سوات میں نجی تعلیمی اداروں کی ایسوسی ایشن نے ایک مبینہ خط میں پینٹ شرٹ کو بطور یونیفارم ختم کرنے کی دھمکی کے بعد گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ضلع میں موجود انتیس نجی اسکولوں میں زیر تعلیم چودہ ہزار طالبعلم یکم رمضان سے شلوار قمیض کو بطور یونیفارم استعمال کریں گے۔

مینگورہ میں واقع زنانہ بازار کے دکانداروں کو بھی مبینہ دھمکی آمیز خط ملاہے کہ وہ کاسمیٹک اور سنگار کا سامان فروخت کرنا ترک کردیں اور بازار آنے والی خواتین ’پردے‘ کا اہتمام کریں بصورت دیگر مارکیٹ کو حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔

سی ڈی کی دکانوں کے علاوہ نجی تعلیمی اداروں کی ایسوسی ایشن کو بھی دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں

اس کے علاوہ مبینہ دھمکی آمیز خطوط ضلعی رابطہ افسر کے دفتر اور علاقے میں غیر حکومتی اداروں کو بھی موصول ہوئے ہیں۔ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہے ہیں کہ یہ خطوط بھیجنے میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں تاہم انہیں ابھی تک اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو معلوم ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز خطوط بھیجنے میں کون لوگ ملوث ہیں مگر بقول ان کے انتظامیہ خوف کی وجہ سے ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی رہی ہے۔ تاہم ایس ایس پی محمد اقبال نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ضلع سوات کالعدم نفاذ شریعت محمدی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پر گزشتہ دو سال سے ایک مقامی دینی عالم غیر قانونی ایف ایم اسٹیشن پر مبینہ طور پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے، لڑکیوں کی تعلیم، سی ڈی فلموں کی فروخت کے خلاف تقاریر کر رہے ہیں۔حکومت نے چند ماہ قبل ان کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں غیر قانونی ایف اسٹیشن چلانے کی اجازت اس شرط پردی کہ وہ مذکورہ موضوعات پر بات نہیں کریں گے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر مکمل طور پرعملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے۔

لال مسجد کے خلاف آپریشن کے خلاف مولانا فضل اللہ نے ہزاروں لوگوں کے ایک احتجاجی اجتماع سے خطاب کے دوران آپریشن بند نہ کرنے کی صورت میں مبینہ طور پر’جہاد‘ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج کو تعینات کر دیا تھا تاہم ایم ایم اے کی صوبائی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام کے درمیان اختلافات کی وجہ سے فوج کو کئی مقامات سے ہٹا کر بیرکوں تک محدود کردیا گیا تھا۔مولانا فضل اللہ ان تمام واقعات میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

’عام سی ڈی پر نہیں‘
’جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز پر پابندی ہے‘
رحمان اللہ ایک دکاندار بم حملوں کا نتیجہ
چارسدہ میں سی ڈیز دکانیں بند ہو رہی ہیں
اسلحہ،نقاب پر پابندی
باجوڑ میں امن و امان کے لیے نئے اقدامات
باجوڑ ہئر ڈریسرزباجوڑ کے ہئرڈریسر
ہمیں داڑھی بنانے پر مجبور نہ کیا جائے
باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
اسی بارے میں
سوات: دو حملوں میں تین ہلاک
31 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد