چارسدہ: بند ہوتی سی ڈیز دکانیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں فلموں کی ڈی وی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں کو بم حملوں میں نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک پچاس سے زائد دکانیں بند ہوچکی ہیں اور اس کے باوجود واقعات میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کے باعث زیادہ تر دکانداروں نے یہ کام چھوڑ کر دوسرے کاروبار شروع کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ ان دھماکوں سے شہر میں کاروباری سرگرمیاں بھی کافی حد تک متاثر ہوئی ہیں۔ پشاور شہر کے شمال میں تقریباً پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع چارسدہ کئی چھو ٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں پر مشتمل ہیں۔ یہ شہر ملک کے موجود وزیرداخلہ اور پاکستان پیپلزپارٹی (شیرپاؤ) کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کا آبائی حلقہ انتخاب بھی ہے۔ اس ضلع میں میوزک، وڈیو گیمز، انگریزی اور انڈین فلمیں بیچنے والوں کی سینکڑوں دکانیں قائم ہیں۔ ان دکانوں پر حملوں کا سلسلہ مئی کے پہلے ہفتے میں شروع ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بم دھماکے وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے جلسہ پر 29 اپریل کو ہونے والے خودکش حملے کے فوری بعد شروع ہوئے جو وقفے وقفے سے تاحال جاری ہیں۔ چارسدہ شہر، شیرپاؤ، تنگی، ہری چند، میراباد پل اور مندڑے کے علاقوں میں اب تک سی ڈیز کی دکانوں پر آٹھ حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں دکانیں تباہ ہوئی ہیں۔ سی ڈیز مالکان کے مطابق ان واقعات کے نتیجے میں رجڑ اور سرڈھیری کے علاقوں میں سی ڈیز فروخت کرنے والی دو مارکیٹیں بند ہو چکی ہیں۔
چارسدہ شہر میں ایک سی ڈی سینٹر کے مالک رحمان اللہ نے بتایا کہ دھمکی آمیز خطوط اور دکانوں پر بم حملوں کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول ’مجھے اپنی زندگی عزیز ہے نہ کہ یہ کاروبار جس میں ہر وقت خطرہ ہی خطرہ رہتا ہے۔ اللہ کی زمین بڑی ہے کوئی اور کام شروع کردینگے‘۔ رحمان اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریناً اس دکان میں ڈیڑھ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جس میں ان کو لک بھگ ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سرڈھیری بازار میں وڈیوگیمز کی ایک دکان کے مالک مختار رضا نے بتایا کہ اس علاقے میں اب تک آٹھ دکانیں مکمل طورپر بند ہوچکی ہیں جبکہ دیگر مالکان بھی یہ کاروبار ختم کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں مالک جائیداد کی طرف سے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں کہ وہ دکان فوری طور پر خالی کردیں کیونکہ دکان پر حملے کی صورت انہیں دکانیں دوبارہ خود تعمیر کرنا ہوں گی‘۔
ان کے الفاظ میں ’اس صورت حال ہم کہاں جائیں، ایک طرف حملوں کا خطرہ دوسری طرف مالکان جائیداد کی دھمکیاں، کاروبار ختم نہیں کرینگے تو اور کیا کرینگے‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے بھی ان پر دباؤ ہے سی ڈیز مالکان کو کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی دکانوں کی حفاظت کا انتظام خود کریں۔ اسی مارکیٹ کے ایک اور سی ڈیز سینٹر کے مالک ندیم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم بندوق اٹھائیں، چوری ڈاکہ کریں اور لوگوں کو لوٹیں۔ اگر کاروبار نہیں ہوگا تو پھر یہی کچھ کرنا پڑے گا‘۔ دس لاکھ کے نفوس پر مشتمل اس ضلع میں امن و امان کی صورتحال گزشتہ ایک ماہ سے انتہائی خراب رہی ہے جس کی وجہ سے علاقے میں تجارتی سرگرمیاں بھی کافی حد تک متاثر ہوئی ہیں۔ ایک دکاندار زاہد خان نے بتایا کہ آفتاب شیرپاؤ پر خودکش حملے کے بعد سے یہاں بے یقینی کی فضاء برقرار ہے، جس سے مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طورپر علاقے میں خوف وہراس بڑھ رہا ہے جبکہ مقامی لوگ بھی بازاروں میں جانے سے کترا رہے ہیں۔
دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دھماکوں میں مبینہ طورپر ملوث ایک مدرسے کے طالب علم کو گرفتار کیا ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس قاضی فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ سعید نامی یہ طالب علم مقامی دینی مدرسے حاجی صاحب ترنگزئی میں زیر تعلیم ہے اور اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ اس کا ایک اور ساتھی بھی تھا جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ادھر صوبائی وزیر اطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان آصف اقبال دوادزئی کا کہنا ہے کہ قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں تعلیمی اداروں کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے اور سی ڈیز دکانوں پر حملوں کے واقعات کے پیچھے وفاقی حساسں اداروں کا ہاتھ ہے جن کا مقصد ان کے بقول ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کو بدنام اور کمزور کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں چارسدہ: موسیقی کی دکانوں پر حملے04 May, 2007 | پاکستان شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان موسیقی، حجام کی دکانوں پر دھماکے04 March, 2007 | پاکستان موسیقی کی کلاسز، احتجاج11 October, 2006 | پاکستان میوزک سنٹر پر دھماکہ، چھ زخمی23 February, 2006 | پاکستان پشاور میں ’بالاخانوں‘ پر حملہ11 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||