سوات سیاحوں کو ترستا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں آثار قدیمہ اور تاریخی نوادرات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جسکا نشانہ عام طور پر مہاتما بدھ کے مجسمے اور اسٹوپا ہیں جس سے پوری وادی بھری ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ سوات کی وادی پوری دنیا میں اپنے قدرتی مناظر اور ان آثار اور نوادرات کے لیے مشہور ہے۔میں نے گزشتہ دنوں مینگورہ میں جو سوات کا صدر مقام ہے عجائب گھر کے اہلکار محمد اقلیم سے جب دریافت کیا کہ ان آثار کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ بیشتر آثار کے گرد جنگلے وغیرہ لگادیئے گئے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے گرد بھی جنگلے اور چار دیواری بنائی جارہی ہے، لیکن جب تک لوگ خود اسے اپنا تاریخی اثاثہ نہ سمجھیں اور اسے نقصان پہنچانے سے گریز نہ کریں اس کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری وادی گندھارا بدھ دور کے آثاروں سے بھری ہوئی ہے جس پر اطالوی اور جرمن محقق کام کر رہے ہیں، اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ساری دنیا ان آثار پر تحقیق اور ان کی نمائش میں دلچسپی لے رہی ہے اور ہم انہیں تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سوات افغانستان میں امریکی کارروائی سے پہلے تک غیرملکی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، جس کا یہاں کی معیشت پر مثبت اثر پڑتا تھا اور یہاں کے دکاندار، رکشہ، ٹیکسی، ڈرائیور اور ہوٹل والے موسم گرما کا بڑی شدت سے انتظار کرتے تھے اس لیے کہ اس موسم میں ملکی اور غیرملکی سیاحوں کی وادی میں یلغار ہوتی تھی جس سے وہ اتنا کما لیتے تھے کہ موسم سرما میں جب بیشتر وادی برف پوش ہوجاتی اور بازار مندا ہوجاتا تو وہ گذارا کرلیتے تھے۔
اب صورتحال برعکس ہے بالخصوص اس سال جب سے دھماکے وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سیاحوں کی آمد بالکل بند ہوگئی ہے۔ ہوٹل تقریبا بند پڑے ہوئے ہیں اور دکانداروں میں مایوسی اکتاہٹ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ہوٹلوں کا یہ عالم ہے کہ میں جس ہوٹل میں ٹھرا تھا اس کے منتظمین نے بتایا کہ گزشتہ چار دنوں میں ہوٹل میں میں پہلا مہمان تھا۔ ریاست سوات کے سابق ولی عہد شہزادہ اورنگزیب نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوات کے لوگ اپنی فطرت میں بڑے امن پسند ہیں لیکن انتہا پسند عناصر جہالت اور معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ورغلاتے رہتے ہیں، ’ حکام نے شروع میں ان کی سرکوبی کرنے کے بجائے انکو نظرانداز کیا اب وہ اتنے منظم اور دلیر ہوگئے ہیں کہ ان پر قابو پانا مشکل ہوگیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اب مینگورہ شہر میں سرکاری افسران بھی سرکاری گاڑیوں میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں ’ہم ایسے ہی ہیں‘27 June, 2006 | پاکستان سوات: ’تبلیغی ریڈیو چلتا رہے‘22 May, 2007 | پاکستان سوات پر جرگے کی تشکیل کا اعلان16 July, 2007 | پاکستان سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک15 July, 2007 | پاکستان سوات: دو حملوں میں تین ہلاک31 August, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات سیاحوں کو ترستا ہے 12 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||