سوات میں مظاہرہ، سپاہی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی جانب سے لال مسجد کے حق میں ہونے والے مظاہرے کے چند گھنٹوں بعد ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ایف سی اور پولیس کے اضافی دستوں کو سرکاری عمارتوں پر تعینات کردیا ہے۔ سوات کے ضلعی رابطہ آفسر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے تحصیل مٹہ کے پولیس سٹیشن پر مسلح افراد نے قبضہ کرنے کی کوشش کی اور پولیس کی مزاحمت کرنے پر انہوں نے راکٹوں سے حملہ کر دیا جس سے ایک سپاہی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے وہاں پر تعینات تقریباً پچیس پولیس کے اہلکاروں سے زبردستی عمارت خالی کرانے کی کوشش کی لیکن انکار کرنے پر انہوں نے حملہ کر دیا۔ ضلعی رابطہ آفسر کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں میں کالعدم مبینہ شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکن اور بعض جرائم پیشہ افراد شامل تھے جو بقول ان کے سوات میں امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ بدھ کی صبح تحصیل کبل میں بھی ایف سی کی ایک گاڑی پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف ضلع سوات میں حکومت اور لال مسجد کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق درجنوں مسلح افراد کوزہ بانڈہ، چارباغ اور برہ بانڈہ میں سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی برہ بانڈہ کے امیر خورشید علی بھی ان مسلح افراد میں شامل ہیں۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں تیار کھڑا ہوں اور لال مسجد کے خلاف آپریش شروع ہونے کے بعد امیر کے حکم پر ’جہاد‘ شروع کر دوں گا۔‘ مینگورہ سے پندرہ کلومیٹر دور امام بانڈہ کے نواحی علاقوں کے لوگوں نے منگل کو لال مسجد کے حق میں ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے کالعدم نفاذ شریعت کے رہنما مولانا فضل اللہ نے لال مسجد کے خلاف مبینہ آپریشن بند نہ ہونے کی صورت میں’جہاد‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سینکڑوں مسلح کارکن سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور آپریشن شروع ہونے کی صورت میں سوات میں سرکاری عمارتوں پر حملے شروع کردیں گے۔انہوں نے گزشتہ رات پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
سوات کے ضلعی رابطہ آفسر سید محمد جاوید کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سےایف سی اور پولیس کی بھاری نفری سوات پہنچ گئی ہے جہاں پر انہیں پولیس سٹیشنوں، پُلوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول صورتحال مکمل طور پرقابو میں ہے اور ایک جرگے کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع مردان میں مدرسہ تحفیظ القرآن، چارسدہ میں مدرسہ حاجی صاحب ترنگزئی، ڈیرہ اسماعیل خان میں مدرسہ سراج العلوم اور نوشہرہ میں عام لوگوں نے لال مسجد کے حق میں مظاہرے کیے ہیں اور انہوں نے حکومتی اقدام کی مذمت کی اور لال مسجد پر کارروائی فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قبائلی علاقے باجوڑ کے پولٹیکل ایجنٹ شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور انہیں چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک اور مہلت03 July, 2007 | پاکستان سات سو طالبات اور طلبا باہر نکل آئے ہیں: حکام04 July, 2007 | پاکستان ’نہ مہلت کا علم ہے نہ کسی کو روکا‘04 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ایک صحافی ہلاک03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد فائرنگ اڑسٹھ زخمی03 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||