BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 October, 2007, 18:11 GMT 23:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخی ورثہ کو حملہ آوروں سےخطرہ

سوات میں بدھا کے مجسمے
جہان آباد میں بدھا کے مجسمے پر حملوں کے بعد خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ علاقے میں تاریخی آثار کو نشانہ بنانے کا رجحان فروغ پائے گا: ماہرین
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ بدھا کے تقریباً بائیس سوسالہ قدیم مجسمے پر ہونے والے حملوں کے سلسلے میں تاحال نہ کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی حملہ آوروں کی کوئی نشاندہی ہوسکی ہے۔

سوات کے جہان آباد کے علاقے میں پہاڑ کی ڈھلوان پر تراشے گئے بدھا کے اس مجسمے کو نامعلوم مسلح افراد نےگیارہ اور انتیس ستمبر کو دو بار بارود سے اڑانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں مجسمے کے سر کو نقصان پہنچا اور وہ تقریباً ناقابل شناخت ہوگیا ہے۔

سوات میوزیم کے کیوریٹر محمد اقلیم نے بی بی سی کوبتایا کہ گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد انہوں نے نامعلوم افراد کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی تاہم انتظامیہ نے اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی حفاظتی اقدام نہیں اٹھایا۔ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے حملہ آوروں نے حوصلہ پایا اور انہوں نے دوسری مرتبہ بدھا کے مجسمے کو حملےکا نشانہ بنایا جس سے مجسمے کو پہلے حملے سے زیادہ نقصان پہنچا۔

طالبانائزیشن
 سوات میں گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اور خودکش حملوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں، گرلز اسکولوں، پولیس اسٹیشنوں اور سی ڈی سینٹروں کو بم حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد حکومت کی عملداری شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز پر براہ راست حملوں کے بعد تاریخی آثار کی حفاظت اب حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی ہے۔
مقامی لوگ
ان کے مطابق ’بدھا کے مجسمے کو جب پہلی بار حملے کا نشانہ بنایا گیا تو اس وقت اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا مگر دوسرے حملے میں مجسمے کا سر تباہ ہوکر تقریباً ناقابل شناخت ہوچکا ہے جبکہ مجسمے کے باقی حصوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے، اگر حکومت پہلے حملے کے بعد سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کرتی تو اس تاریخی مجسمے کو بچایا جاسکتا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے صوبائی محمکہ آثار قدیمہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں مجسمے کو تیسری دفعہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔

ضلع سوات کےضلعی رابطہ آفسر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ مجسمے پر ہونے والے حملوں کے سلسلے میں تاحال نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی ذمہ داران کی نشاندہی ہوسکی ہے۔

سوات میں سرکاری املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے
ان سے جب پوچھا گیا کہ پہلے حملے کے بعد یہ کیسے ممکن ہوا کہ مبینہ حملہ آور مجسمے کو دوسری مرتبہ نشانہ بنا سکے تو ان کا دعوی تھا کہ ’پہلے حملے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجسمے کی حفاظت کے لیےگشت شروع کیا تھا لیکن بدقسمتی سے دوسرا حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب پولیس اہلکار موقع پر موجود نہیں تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صوبائی وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ بدھا کے اس تاریخی مجسمے سے متعلقہ علاقے کو سوات میں موجود تقریباً چھ اور علاقوں کی طرح آرکیالوجیکل سائٹ قرار دیا جائے۔

تاریخی ورثہ خطرے میں
 حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے نہ صرف بدھا کے مجسمے پر ایک اور حملے کا خدشہ ہے بلکہ پوری وادی میں موجود گندھا را تہذیب کے دیگر تاریخی آثار کو بھی مبینہ شدت پسندوں کی طرف سے شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
ماہر آثار قدیمہ پرویز شاہین
سید جاوید کے مطابق آرکیالوجیکل سائٹ قرار دینے کے بعد وہاں پر سکیورٹی کا خاص بندوبست کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ بدھا کے مجسمے کے قریب پولیس کی ایک چوکی بھی بنائی جاسکے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ضلع سوات میں تاریخی آثار کے علاوہ پلوں، ایف سی کے قلعوں اور دیگر حساس حکومتی مقامات کو بھی مبینہ شدت پسندوں کی طرف سےشدید خطرہ درپیش ہے۔

سوات میں ماہر آثار قدیمہ پرویز شاہین نے، جنکا گھر بدھا کے مجمسے کے بہت ہی قریب واقع ہے، اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے نہ صرف بدھا کے مجسمے پر ایک اور حملے کا خدشہ ہے بلکہ پوری وادی میں موجود گندھا را تہذیب کے دیگر تاریخی آثار کو بھی مبینہ شدت پسندوں کی طرف سے شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

انکے بقول جہان آباد کے علاقے میں واقع بدھا کے مجسمے پر ہونے والوں حملوں کے بعد اب یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ علاقے میں موجود تاریخی آثار کو نشانہ بنائے جانے کا رجحان فروغ پائے گا۔انکے مطابق وادی سوات میں غالیگئی اور ننگریال کے علاقے میں واقع بدھا کے تاریخی مجسموں کے علاوہ شنگردار میں تقریباً دو ہزار سالہ قدیم اسٹوپا کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوات میں گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اور خودکش حملوں، سکیورٹی فورسز پر حملوں، گرلز سکولوں، پولیس سٹیشنوں اور سی ڈی سینٹروں کو بم حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد حکومت کی عملداری شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز پر براہ راست حملوں کے بعد تاریخی آثار کی حفاظت اب حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے سن دوہزار کے دوران بین الاقوامی برادری کی تمام تر اپیلوں کے باوجود وادی بامیان میں موجود بدھا کے مجسمے کو مسمار کر دیا تھا۔تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان میں بدھا کے تاریخی مجسمے کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان میں ای میوزیم
29 June, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد