BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدھا مجسمہ حملے میں جزوی تباہ

بدھا
ڈھلوان پر بنائے گئے مجسمے میں پہلے سوراخ کر کے بارود بھرا گیا اور پھر اس میں آگ لگا کر دھماکہ کیا گیا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں تقریباً بائیس سو سالہ قدیم مہاتما بدھ کے مجسمے کو ایک بار پھر دھماکے سے اڑا نے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مجسمے کو پہلے حملے کی نسبت زیادہ شدید نقصان پہنچا ہے۔

سوات میوزیم کے کیوریٹر محمد اقلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام چار بجے مینگورہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر مشرق میں واقع منگلور کے جہان آباد میں نامعلوم افراد نے بدھا کے قدیم مجسمے کو بارود سے مسمار کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے مجسمے کے سر، کندھے اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ان کے مطابق ’ڈھلوان پر بنائے گئے مجسمے میں پہلے سوراخ کر کے بارود بھرا گیا اور پھر اس میں آگ لگا کر دھماکہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بدھا کے مجسمے کا سر مکمل طور پر اڑ گیا ہے جبکہ پیروں اور کندھے کا بیشتر حصہ تباہ ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہوگیا ہے۔

اس سے قبل گیارہ ستمبر کو بھی اسی مجسمے کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اس وقت اسے جزوی نقصان پہنچا تھا۔

وادی سوات گندھارا تہذیب کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے

محمد اقلیم کے مطابق انہوں نےگزشتہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی مگر اس سلسلے میں نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔

محمد اقلیم کے بقول مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ بعض نقاب پوش افراد نے خود کو مجاہدین ظاہر کر کے پہلےانہیں یر غمال بنایا اور بعد میں انہوں نے مجسمے کو بم سے اڑادیا۔ ان کے مطابق اس علاقے میں پولیس کی زیادہ تر چوکیوں کو پہلے ہی تباہ کیا جاچکا ہے۔

معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر پرویز شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ سن دو ہزار کے دوران افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں وادی بامیان میں بدھا کے مسمار کیے گئے مجسمے کے بعد سوات میں تخریبی کارروائی کا نشانہ بننے والا مجسمہ ایشیا میں بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً بائیس سو سال قدیم ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سوات میں بدھا کے سینکڑوں چھوٹے بڑے مجسمے موجود ہیں

ان کے بقول اس مجسمے کی لمبائی تیرہ فٹ اور چوڑائی نو فٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی سوات گندھارا تہذیب کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں اس وقت بھی بدھا کے سینکڑوں چھوٹے بڑے مجسمے موجود ہیں۔

قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کے بعد ضلع سوات میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے مبینہ ’ طالبانائزیشن‘ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سوات میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سابق رہنماء اور غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے ایک ’سخت گیر‘ مذہبی عالم موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ وہ جہاد کی حمایت کے حوالے سے تقاریر کرتے ہیں اور بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔

مجسمے کے سر، کندھے اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے

حالیہ دنوں میں سوات میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور سی ڈی سینٹروں کو دھماکے سے اڑانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی اوز کے دفاتر اور لڑکیوں کے سکولوں میں بھی دھمکی آمیز خطوط ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی بارے میں
سوات سیاحوں کو ترستا ہے
12 September, 2007 | پاکستان
سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ
07 September, 2007 | پاکستان
نواردات پاکستان کو واپس
08 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد