بدھا مجسمہ حملے میں جزوی تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں تقریباً بائیس سو سالہ قدیم مہاتما بدھ کے مجسمے کو ایک بار پھر دھماکے سے اڑا نے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مجسمے کو پہلے حملے کی نسبت زیادہ شدید نقصان پہنچا ہے۔ سوات میوزیم کے کیوریٹر محمد اقلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام چار بجے مینگورہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر مشرق میں واقع منگلور کے جہان آباد میں نامعلوم افراد نے بدھا کے قدیم مجسمے کو بارود سے مسمار کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے مجسمے کے سر، کندھے اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ’ڈھلوان پر بنائے گئے مجسمے میں پہلے سوراخ کر کے بارود بھرا گیا اور پھر اس میں آگ لگا کر دھماکہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بدھا کے مجسمے کا سر مکمل طور پر اڑ گیا ہے جبکہ پیروں اور کندھے کا بیشتر حصہ تباہ ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہوگیا ہے۔ اس سے قبل گیارہ ستمبر کو بھی اسی مجسمے کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اس وقت اسے جزوی نقصان پہنچا تھا۔
محمد اقلیم کے مطابق انہوں نےگزشتہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی مگر اس سلسلے میں نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔ محمد اقلیم کے بقول مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ بعض نقاب پوش افراد نے خود کو مجاہدین ظاہر کر کے پہلےانہیں یر غمال بنایا اور بعد میں انہوں نے مجسمے کو بم سے اڑادیا۔ ان کے مطابق اس علاقے میں پولیس کی زیادہ تر چوکیوں کو پہلے ہی تباہ کیا جاچکا ہے۔ معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر پرویز شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ سن دو ہزار کے دوران افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں وادی بامیان میں بدھا کے مسمار کیے گئے مجسمے کے بعد سوات میں تخریبی کارروائی کا نشانہ بننے والا مجسمہ ایشیا میں بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً بائیس سو سال قدیم ہے۔
ان کے بقول اس مجسمے کی لمبائی تیرہ فٹ اور چوڑائی نو فٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی سوات گندھارا تہذیب کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں اس وقت بھی بدھا کے سینکڑوں چھوٹے بڑے مجسمے موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کے بعد ضلع سوات میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے مبینہ ’ طالبانائزیشن‘ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سوات میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سابق رہنماء اور غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے ایک ’سخت گیر‘ مذہبی عالم موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ وہ جہاد کی حمایت کے حوالے سے تقاریر کرتے ہیں اور بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوات میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور سی ڈی سینٹروں کو دھماکے سے اڑانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی اوز کے دفاتر اور لڑکیوں کے سکولوں میں بھی دھمکی آمیز خطوط ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ | اسی بارے میں سوات سیاحوں کو ترستا ہے 12 September, 2007 | پاکستان سوات: بدھا کا مجسمہ تباہ کرنے کی کوشش11 September, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات : پولیس چوکی میں دھماکہ01 August, 2007 | پاکستان سوات: ’تبلیغی ریڈیو چلتا رہے‘22 May, 2007 | پاکستان نواردات پاکستان کو واپس08 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||