سوات:عارضی جنگ بندی کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں پیر کی صبح مقامی عسکریت پسندوں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کے اور سکیورٹی فورسز کے درمیان عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ اعلان ان کے رہنما مولانا فضال اللہ کے جنگ بندی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ فریقین اپنے اپنے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اٹھا لیں۔ ریڈیو پر یہ بھی بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں ایک بچہ، ایک عورت اور تین عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس طرح لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم سے کم انتیس ہو گئی ہے جن میں وہ آٹھ اہلکار بھی شامل ہیں جن کے گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ لڑائی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ عارضی جنگ بندی کے اعلان سے قبل رات گئے تک گولہ باری کا سلسلہ جاررہا۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا تھا کہ اتوار تک پانچ زخمی ان کے پاس علاج کے لیے آئے تھے جن میں دو صحافی اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار کے مطابق زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ ہسپتال تک نہیں پہنچ پا رہے۔ |
اسی بارے میں جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون27 October, 2007 | پاکستان سوات میں لڑائی تھم گئی26 October, 2007 | پاکستان سوات: حملے کے ایک دن بعد فوجی کارروائی26 October, 2007 | پاکستان سوات پر صوبائی کابینہ کااجلاس26 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||