BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 October, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات شدت پسندوں کا فرنٹ لائن کیسے بنا؟

 سیاحت کے لیے مشہور سوات
سیاحت کے لیے مشہور سوات میں تشدد کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں
صوبہ سرحد کی سوئٹزلینڈ کہلوانے والی دلکش وادی سوات بھی بظاہر نظرائی گئی ہے۔ کئی صدیاں پہلے بدھ مت اور یونانی تہذیب نے اس علاقے کو اس کی خوبصورتی اور پرسکون ماحول کی وجہ سے اپنا مکسن بنایا۔ لیکن اب کئی ماہ سے جاری تناؤ اور کشیدگی کی فضاء نے بدترین رخ لیا ہے۔

اسے آپ ایک چھوٹی سی بیماری کہیں یا ایک معمولی مسئلہ، سوات اس سے گزشتہ کئی برسوں سے متاثر تھا۔ حکومت کی طرف سے حسب معمول بیماری کی تشخیص یا علاج بر وقت نہ ہونے سے یہ عارضہ بڑھتا رہا، پھیلتا رہا۔

انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل تک سوات کے یوسفزئی پٹھانوں کو صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کے باسیوں سے کئی درجے زیادہ برداشت اور زیادہ کھلے ذہن کے حامل تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں کے علماء بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ یہی علاقہ تھا جہاں قریبی خطوں سے عورتوں کی تعلیم کی شرح بہتر تھی۔

مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس بات پر مصر ہے کہ انیس سو انہتر میں ریاست سوات کے خاتمے کے بعد سے حالات میں ابتری ہی آئی ہے، بہتری نہیں۔ وزیرستان اگر وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے نوکرشاہی کی مفاداتی پالیسیوں کا نشانہ بنا تو سوات میں یہ کام صوبے کا زیر انتظام قبائلی علاقہ یعنی پاٹا ہونے کی وجہ سے صوبائی افسران کے ہاتھ چڑھا رہا۔

حالات پہلے سے بدل رہے تھے
 چند برس قبل ایک وقت جب حکومت شمالی و جنوبی وزیرستان میں وہاں کے شدت پسندوں سے غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کے عہد و پیما کرچکی تو ایک وقت میں بعض حلقوں میں اس قسم کے شکوک و شبہات ظاہر کیے جانے لگے کہ شاید یہ غیرملکی اور ملکی شدت پسند مالاکنڈ اور سوات کا رخ کرسکتے ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت اس سے مسلسل انکار کرتی رہی اور کسی حد تک یہ درست بھی ہو۔
تاہم مبصرین کے خیال میں علاقے کے ماحول پر سب سے زیادہ منفی اثر فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی افغان پالیسی سے پڑا۔ اسلحہ آیا، منشیات آئیں بلکہ سب سے زیادہ شدت پسندی کی لہر آئی۔ اسی کی دہائی میں مدارس کی تعداد میں بےتحاشہ اضافہ دیکھا گیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پاٹا ریگولیشن کے خاتمے کے فیصلے کے بعد جو انتظامی خلاء پیدا ہوا اسے بھرنے کی کوشش مقامی مذہبی رہنما مولانا صوفی محمد نے نفاذ شریعت کے نفاذ کے مطالبے سے کی۔ اس کے لیے ان کے حامیوں نے انیس سو چورانوے میں بغاوت کرتے ہوئے سیدو شریف ایئرپورٹ اور سرکاری دفاتر پر قبضے کی ناکام کوشش کی۔ حکومت نے طاقت کا استعمال کیا اور دونوں جانب سے بھاری جانی نقصانات ہوئے۔

پھر گیارہ سمتبر آیا۔ افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو مولانا صوفی محمد سینکڑوں افراد کو امریکہ سے مقابلے کے لیے لے گئے۔ آج بھی ان افراد میں سے بڑی تعداد کے بارے میں واضح نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

حکومت نے بیرونی دباؤ کے نتیجے میں مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔ تاہم اس پابندی اور مولانا صوفی محمد کے جیل میں ہونے کے باوجود اس تنظیم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں سے یہاں کے شدت پسندوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ نے مزاحمت اور حکومت کے لیے درد سر بننے کی ذمہ داری سنبھالی۔ کبھی غیرقانونی ایف ایم ریڈیو اور کبھی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے انہوں نے اپنے مذہب کی ترویج اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کیا۔

اس وقت سے شدت پسند ’فرنٹ فٹ‘ جبکہ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے ’بیک فٹ‘ پر ہیں۔ سی ڈی شاپس اور حجام کی دکانوں کے علاوہ بچیوں کو سکول جانے سے روکنے اور پردہ کرنے کے حکم دیے جا رہے ہیں۔ مقامی افسر بھی تعلیمی اداروں دھمکی آمیز خطوط بھیجنے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے ان ادارے کے اہلکاروں اور والدین کو ان کی بات ماننے کے مشورے دینے لگے۔

سوات سیاحت کے لیے مشہور رہا ہے
سوات آج کل اس نامعلوم ’خفیہ‘ دشمن سے شدید گومہ گو کیفیت سے گزر رہا ہے۔ کوئی اسے اسلام آباد کی لال مسجد کا ردعمل تصور کر رہے ہیں کیونکہ اس مسجد میں زیر تعلیم بڑی تعداد میں طلبہ کا تعلق سوات سے بھی تھا، کوئی اسے طالبانئزیشن کی پھیلتی لہر کا حصہ جبکہ کوئی اسے کسی غیرواضح سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

اگر زیادہ نہیں تو گزشتہ دو برس میں تو دینی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی حکومت اس بیماری کے بروقت علاج میں لعت و لیل سے کام لیتی رہی۔ کچھ بات چیت سے اور کچھ اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے وہ اس بیماری کو چھپاتی رہی اور علاج سے کتراتی رہی۔

چند برس قبل ایک وقت جب حکومت شمالی و جنوبی وزیرستان میں وہاں کے شدت پسندوں سے غیرملکیوں کو پناہ نہ دینے کے عہد و پیما کرچکی تو ایک وقت میں بعض حلقوں میں اس قسم کے شکوک و شبہات ظاہر کیے جانے لگے کہ شاید یہ غیرملکی اور ملکی شدت پسند مالاکنڈ اور سوات کا رخ کرسکتے ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت اس سے مسلسل انکار کرتی رہی اور کسی حد تک یہ درست بھی ہو۔

یہ شاید بعض عناصر کی خام خیالی ہو اور یہ سوات میں بگڑتی صورتحال کے ذمہ دار نہ ہوں لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس علاقے میں بھی مذہب سے رغبت دیگر علاقوں سے زیادہ ہے، لہذا شدت پسند بھی ضرور موجود ہیں۔

حکومت ان سے بظاہر وزیرستان کی طرح ہی نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں جمعرات کے روز سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ مزید فوجی کسی سیاسی عمل کی عدم موجودگی میں جھونکنا ایک اور بڑی غلطی ہوگی۔

اسی بارے میں
سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ
07 September, 2007 | پاکستان
سوات سیاحوں کو ترستا ہے
12 September, 2007 | پاکستان
سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک
22 September, 2007 | پاکستان
فوجی قافلے پر حملہ، 20 ہلاک
25 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد