سوات پر صوبائی کابینہ کااجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی نگران کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سوات میں امن جرگہ کی تجاویز اور مطالبات کے مطابق وہاں امن قائم کرنے کےلئے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے اور کسی بھی طاقت کا استعمال سے گریز کیا جائے۔ یہ فیصلہ جمعرات کی شام پشاور میں سرحد کی نگران کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت نگران وزیراعلی شمس الملک نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر امیر مقام نے خصوصی طورپر شرکت کی۔ وزیراعلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سوات میں امن کے قیام کے لئے امن وامان خراب کرنے والے عناصر کو بھی عملی اقدامات لینے ہونگے جبکہ عوامی مطالبات کی روشنی میں مقامی سطح پر بات چیت کو اہمیت دی جائے اور صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ صوبائی شریعت ایکٹ مجریہ 2003 کو پاٹا تک پھیلانے کےلئے قابل عمل تجاویز مرتب کئے جائیں۔ کابنیہ نے ملاکنڈ اور سوات میں نظام عدل ریگولیشن آرڈیننس کو عملی طورپر لاگو کرنے اور اس سلسلے میں قانونی سقم کو ختم کرنے کےلئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاروت کرنے کی تجویز دی جبکہ غلام دستگیر اے سی ایس کی سربراہی میں اعلی سطح کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جس میں ممبران قانون، داخلہ، اسٹبلشمینٹ کے سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے وہ جلد از جلد اپنی سفارشات مرتب کرکے وزیراعلی کو رپورٹ پیش کریں تاکہ عوام کو فوری انصاف فراہم کیا جاسکے۔ اجلاس میں علاقے میں ایف ایم ریڈیو قائم کرنے کی تجویزبھی زیر غور آئی۔ اس طرح اجلاس میں معاونین شریعت کورٹ کی تعیناتی اور عدالتوں میں قاضیوں کی تعیناتی کی تجویز پر غور خوض ہوا۔ | اسی بارے میں سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ25 October, 2007 | پاکستان سوات: فوجی قافلے پر حملہ، 18 ہلاک25 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||