BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 04:43 GMT 09:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون

سکیورٹی فورسز ہیلی کاپٹرز کا استعمال کر رہی ہیں
سوات میں چند روز پہلے سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جمعہ کی دوپہر سکیورٹی فورسز اور مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے درمیان چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد حالت گزشتہ رات پر سکون رہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات اکا دکا واقعات کے علاوہ حالات مجموعی طور پر پر امن رہے۔ گزشتہ روز مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان چھ گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد مولانا فضل اللہ کے درجنوں مسلح حامی شہر میں نکل آئے تھے۔

دریں اثناء جمعیت علامہ اسلامی نے مالاکنڈ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات سوات کے قریب چار باغ نامی جگہ پر مسلحہ افراد نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر دیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر فوج کی مدد طلب کر لی اور فوج کی فائرنگ کے بعد مسلح افراد پسپا ہو گئے۔ اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سوات کے صدر مقام مینگورہ اور اس کے اطراف میں واقع علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے کئی علاقوں میں چیک پوسٹوں تو بنائی ہوئی ہیں تاہم وہ گشت کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اس وقت تک مستقل طور پر امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک سوات میں اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جاتا۔

مقامی باشندے رحیم خان نے بتایا کہ نوے کے عشرے میں جب کالعدم تنظیم نفاذ شریعت کے امیر مولانا صوفی محمد کی قیادت میں ہزاروں رضاکاروں نے علاقے کا کنٹرول سنبھالا تھا تو اس وقت بھی حکومت نے سوات کے عوام سے شریعت کے نفاذ کے وعدے کئے تھے لیکن آج تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

سوات میں شدت پسندوں کے حملوں میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں
انہوں نے کہا کہ علاقے میں جس کسی کے خلاف جو بھی کارروائی ہوتی ہے حکومت مولانا فضل اللہ کو بدنام کرنے کےلئے اس کی ذمہ داری ان پرعائد کردیتی ہے۔ ’ہم جان کی بازی لگا دیں گے لیکن مولانہ فضل کے مشن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔‘

ایک دوسرے رہائشی ظاہرشاہ نے بتایا کہ جو بھی بندہ مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری نماز پڑھنے جاتا ہے اسے دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے اور جس کی داڑھی ہوتی ہے انہیں بھی سخت گیر کہا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ
07 September, 2007 | پاکستان
سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک
22 September, 2007 | پاکستان
سوات: دو حملوں میں تین ہلاک
31 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد