جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جمعہ کی دوپہر سکیورٹی فورسز اور مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے درمیان چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد حالت گزشتہ رات پر سکون رہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات اکا دکا واقعات کے علاوہ حالات مجموعی طور پر پر امن رہے۔ گزشتہ روز مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان چھ گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد مولانا فضل اللہ کے درجنوں مسلح حامی شہر میں نکل آئے تھے۔ دریں اثناء جمعیت علامہ اسلامی نے مالاکنڈ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات سوات کے قریب چار باغ نامی جگہ پر مسلحہ افراد نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر دیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر فوج کی مدد طلب کر لی اور فوج کی فائرنگ کے بعد مسلح افراد پسپا ہو گئے۔ اس جھڑپ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اس وقت تک مستقل طور پر امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک سوات میں اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جاتا۔ مقامی باشندے رحیم خان نے بتایا کہ نوے کے عشرے میں جب کالعدم تنظیم نفاذ شریعت کے امیر مولانا صوفی محمد کی قیادت میں ہزاروں رضاکاروں نے علاقے کا کنٹرول سنبھالا تھا تو اس وقت بھی حکومت نے سوات کے عوام سے شریعت کے نفاذ کے وعدے کئے تھے لیکن آج تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔
ایک دوسرے رہائشی ظاہرشاہ نے بتایا کہ جو بھی بندہ مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری نماز پڑھنے جاتا ہے اسے دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے اور جس کی داڑھی ہوتی ہے انہیں بھی سخت گیر کہا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ہزاروں اہلکار تعینات، سکول بند24 October, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات پر صوبائی کابینہ کااجلاس26 October, 2007 | پاکستان سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک22 September, 2007 | پاکستان تاریخی ورثہ کو حملہ آوروں سےخطرہ02 October, 2007 | پاکستان سوات: دو حملوں میں تین ہلاک31 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||