ہزاروں اہلکار تعینات، سکول بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام کے مطابق صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ کسی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح سویرے شہر کے تمام اہم مراکز اور سرکاری عمارتوں پر فوج اور فرنٹیر کور کے جوانوں نے اچانک کنٹرول سنبھال لیا۔ سوات کے مقامی صحافی شیرین زادہ کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح چار بجے سے پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی شروع ہوئی اور چار گھنٹوں تک سوات کے تمام داخلی راستوں کو سیل کردیا گیا تھا جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق ہزاروں جوان ائرپورٹ، سوات پبلک سکول، کبل، ایف سی کیمپ اور کانجو پل کی عمارت پر تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں تعیناتی سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے جبکہ شہر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے غیر اعلانیہ طور پر بند کر دیےگئے ہیں۔ ادھر پشاور میں سرحد کے نگران وزیراعلی شمس الملک نے کہا ہے کہ حکومت نے سوات میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا ہے۔
پشاور میں نگران وزراء کی تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت سوات کے عوام کی مشکلات پر خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور انہیں دور کرنے کےلئے کسی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاحال آپریشن زیر غور نہیں اور حکومت جو بھی اقدام اٹھائی گی وہ قانون کے مطابق ہوگا۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سوات میں ممکنہ فوجی آپریشن کے بارے میں وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ سوات میں فوج کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت کی درخواست پر نیم فوجی دستے وہاں امن کی بحالی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور اسی کے حکم پر فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستے وہاں روانہ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا اس نئی تعیناتی سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ تو کافی عرصے سے سوات میں موجود ہیں۔ سوات کے ایک مذہبی عالم اور کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے سوات میں کوئی فوجی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے سوات میں فوجی دستوں کی تعیناتی کے فوری بعد لوگوں سے ایف ایم ریڈیو چینل پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی بھی حکومت سے کیے گئے معاہدے پر قائم ہیں لیکن اگر ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو پھر مذاکرات کے تمام دروازے بند ہوجائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی علاقےمیں امن چاہتے تھے اور اب بھی امن کے خواہاں ہیں۔ دوسری طرف پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہے کہ سوات میں فوجی دستے امن و امان کے قیام اور مولانا فضل اللہ کے ساتھیوں سے نجات دلانے کے لئے تعینات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ چند ماہ سے امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے۔ شہر میں پولیس اہلکاروں پر حملے معمول بن چکے ہیں جبکہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے کارکنوں کے ایک بار پھر منظم ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ادھر ضلع ملاکنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو نیم فوجی اہلکاروں کے ایک قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ ملاکنڈ کے ضلعی ناظم فدا محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی رات نیم فوجی اہلکاروں کا ایک قافلہ سوات جا رہا تھا کہ چکدرہ کے قریب سڑک پر نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے قافلے میں شامل فرنٹیر کور کے چار اہلکار زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بم سڑک کے کنارے پڑے ہوئے کوڑے کے ڈھیر میں نصب کیا گیا تھا۔ ضلعی ناظم کے مطابق فوجی گاڑی بم پھٹنے سے پھسل گئی جس سے اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ہیں لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوئی ہے۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ملاکنڈ: فوجی قافلے پر حملوں سے انکار07 July, 2007 | پاکستان ملاکنڈ: حملے میں چار فوجی ہلاک06 July, 2007 | پاکستان ملاکنڈ اورمردان میں دھماکے 16 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||