ملاکنڈ اورمردان میں دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ملاکنڈ ڈویژن میں عالمی ادارہ صحت کی ایک گاڑی میں بم دھماکہ ہوا ہے تاہم کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بٹ خیلہ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار علی رحمت نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی رات ساڑھے گیارہ بجے پولیو کےخلاف مہم میں استعمال ہونے والی عالمی ادرہ صحت کی گاڑی میںدھماکہ ہوا۔ دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے جبکہ دیگر کئی گاڑیوں کوجزوی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق بم دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں روسی ساخت کا ڈیڑھ کلو وزنی دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔دھماکے میں تباہ ہونے والی گاڑی ملاکنڈ ڈویژن میں پولیومہم کے انچارج ڈاکٹر سیف الدین کے زیر استعمال تھی۔ پولیس کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دھماکے کا مقصد علاقے میں پولیو کےخلاف جاری مہم کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن صوبہ سرحد اور ان قبائلی علاقوں میں شامل ہے جہاں بعض لوگوں نے مقامی دینی علماء کے کہنے پر بچوں کو پولیو کےقطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔ مقامی دینی علماء بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو غیر شرعی اور مسلمانوں کے مخالفین کی ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔چند ماہ قبل بھی باجوڑ میں ایک ڈاکٹر کو اس وقت بم حملے کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بعد صدر مقام خار واپس آرہے تھے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ صوبہ سرحد میں ہر دس میں سے دو بچے ایسے ہیں جو مقامی علماء کے کہنے پر پولیو ویکسین سے محروم ہوچکے ہیں۔ دریں اثناء ضلع مردان میں ایک دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص اس وقت زخمی ہوگیا جب وہ دستکاری مرکز کی عمارت کے ساتھ بم نصب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر حیات اللہ گنڈاپور نے بی بی سی کو بتایا کہ جمع کی صبح مردان سے پانچ کلومیٹر دور شوگر مل کے علاقے لیبر کالونی میں قائم ایک دستکاری سنٹر کے ساتھ ایک شخص دیسی ساخت کا بم نصب کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ بم اسکے ہا تھ میں پھٹ گیا اور دھماکے کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ اڑ گیا۔ پولیس افسر کے مطابق بم نصب کرنے والے شخص نے اپنا نام امتیاز بتایا ہے۔ان کے مطابق ملزم کو زخمی حالت میں پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق بم نصب کرنے کے وقت دستکاری سینٹر میں تقریبا پینتالیس خواتین موجود تھیں۔ واضح رہے کہ ضلع مردان میں اس سے قبل بھی نامعلوم افراد نے سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا ہے لیکن پولیس تاحال نہ کسی کو گرفتار کرسکی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مردان میں ہونے والے واقعات صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع میں ہونے والے بم حملوں کا ایک تسلسل ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان مشکل اور خطرناک پولیومہم07 May, 2006 | پاکستان پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا30 March, 2007 | پاکستان پولیو، ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ23 November, 2006 | پاکستان پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ14 March, 2005 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان آٹھ لاکھ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے12 November, 2005 | پاکستان پولیو: افواہوں کے خلاف مہم21 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||