پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان دنیا کے ان چار ممالک میں شامل ہے جہاں کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود پولیو جیسے مرض کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا بلکہ صورتحال میں بہتری کی بجائے بعض وجوہات کے سبب خرابی بڑھ رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ آ گہی کا ہے۔ مثلاً صوبہ سرحد کے باغوان علاقے سے تعلق رکھنے والی ڈھائی سالہ بچی عائشہ پولیو کی شکار ہے۔ اس کے والد فیروز خان کو اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا کتنا اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ ہم غریب لوگ ہیں صبح کام پر جا کر شام کو واپس آتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں تھا کہ پولیو کے قطرے کب پلائے جاتے ہیں۔ہماری غفلت کی وجہ سے بچی معذور ہو گئی ہے۔‘ عالمی ادارہ صحت نے اپنے ایک حالیہ سروے میں کہا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ایسے والدین کی تعداد زیادہ ہے جو مختلف وجوہات کو بنیاد بنا کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔مگر پولیو کی دوا کا زائد المیعاد ہونا اس سروے میں شامل نہیں حالانکہ یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ ضلع کرک کے خیال الدین کا چھوٹا بیٹا بھی پولیو کا شکار ہے اور وہ اس کی وجہ زائدالمیعاد ویکسین کے استعمال کو قرار دے رہے ہیں۔
مگر صوبہ سرحد میں توسیعی پروگرام برائے ٹیکہ جات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوحید لوگوں کی ایسی شکایات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ ایسےبچے بہت کم ہیں جن کو قطرے پلانے کے باوجود پولیو ہوا ہو ۔ویسے بھی یہ ویکسین سو فیصد حفاظت تو نہیں کرسکتی البتہ بیماری کی شدت کم کرسکتی ہے۔ ہم کو شش کرتے ہیں کہ ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے کولڈ چین کا عمل برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر یں تا کہ بچوں کو پلانے تک یہ ویکیسن ایکسپائر نہ ہو۔‘ عالمی ادارہ صحت اور صوبہ سرحد کی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے آرپار افغان مہاجرین کی آمدورفت بھی پولیو کا وائرس پھیلنے کا ایک بڑا سبب ہے۔قبائلی علاقے جمرود میں آباد ایک افغان خاتون اخترہ سے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے دس بچوں میں سے کسی کو بھی پولیو کے قطرے نہیں پلائے ۔ انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ’ میرا خاوند ایک عمر رسیدہ شخص ہے ۔وہ صبح گھر سے نکل جاتا ہے۔ عورتیں تو گھروں سے نہیں نکل سکتی۔ بچے چھوٹے ہیں وہ خود باہر نہیں جا سکتے ۔ ہم تو ان پڑھ لوگ ہیں تعلیم یافتہ لوگ ان چیزوں کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ہم نے نہ تو خود کبھی قطرے لئے ہیں اور نہ ہی بچوں کو پلائے ہیں۔ بس اللہ ہی انکی حفاظت کرتا ہے۔‘ حکومت کا کہنا ہے کہ ضلع سوات کی دو تحصیلوں میں ایک مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کی ایف ایم ریڈیو سٹیشن پر پولیو ویکسین کے خلاف تقاریر کی وجہ سے علاقے کے بہت سے والدین نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کردیا ہے۔ مولانا فضل اللہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: ’ جب تک مرض پھیلا نہ ہو تب تک اس کا علاج شرعاً جائز نہیں ہے۔ وبا ئی مرض کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اس سے جو بھی ہلاک ہو وہ شہید ہے ۔لہذا اگر پولیو وبائی شکل اختیار کرے تو اسکے نتیجے میں آنے والی موت شہادت کے مترادف ہو گی۔لیکن پولیو اب ایک وبائی مرض نہیں ہے۔‘ عالمی ادارہ صحت اور صوبہ سرحد کی حکومت نے گزشتہ سال ملک کے جید علماء اور مذہبی سیاسی رہنماؤں سے ایک کانفرنس میں فتوی حاصل کیا تھا کہ پولیو کے قطرے پلانا غیر شرعی نہیں ہے۔لیکن مبصرین کے بقول پولیو کے مکمل خاتمے کے دعووں کے برعکس عالمی ادارہ صحت اور حکومت کو شاید اب بھی بہت وقت لگے گا۔ |
اسی بارے میں قبائلی شخصیت، پولیو ٹیم پرحملے24 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان مشکل اور خطرناک پولیومہم07 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||