عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 | | | بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے |
صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں نامعلوم افراد نے ایک قبائلی شخصیت حاجی شاہ محمد پر حملہ کیا ہے جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ گزشتہ روز پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا۔ چمن میں امن و امان کی صورتحال پر لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چمن سے آمدہ اطلاعات کے مطابق حاجی شاہ محمد اپنے گھر سے صبح نکلے ہی تھے کہ نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ شروع کردی جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے ناظم قلعہ عبداللہ حاجی آدم خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تاحال اس حملے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ گزشتہ روز چمن میں بوغرہ روڈ پر پولیو کے قطرے پلانے والی ایک ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سپروائزر زخمی ہوگئے ہیں۔ نامعلوم افراد گاڑی چھین کر فرار ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے چمن اور قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے۔  | لیویز کی جگہ پولیس بااختیار  قلعہ عبداللہ اور چمن کو دیگر بیس شہروں کی طرح بی ایریا سے اے ایریا میں تبدیل کر دیا گیا ہے یعنی اب چمن اور قلعہ عبداللہ میں بھی لیویز کی جگہ پولیس بااختیار ہوگی۔ بلوچستان میں سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور ان جماعتوں کے قائدین کے مطابق لیویز علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پولیس علاقوں کی نسبت بہتر رہی ہے۔  |
موٹر سائیکل چھیننا دکانیں لوٹنا اور دن دہاڑے ڈکیتیاں روزانہ کا معمول بن چکی ہیں۔ مقامی صحافی اسلم اچکزئی نے بتایا ہے کہ آج صبح دو موٹر سائکل چھینے گئے ہیں اور رات ایک دکان لوٹی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ لوگوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ ضلع ناظم حاجی آدم خان اچکزئی سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے پولیس کو ہدایات جاری کر دی ہیں اور اس کے علاوہ علماء اور مقامی شہریوں کی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان بحال کیا جا سکے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ بد امنی کی کیا وجوہات ہیں تو انھوں نے کہا کہ ڈاکو اس میں ملوث ہیں اور لوگوں کے تعاون سے وہ جلد ہی اس پر قابو پالیں گے۔ یاد رہے قلعہ عبداللہ اور چمن کو دیگر بیس شہروں کی طرح بی ایریا سے اے ایریا میں تبدیل کر دیا گیا ہے یعنی اب چمن اور قلعہ عبداللہ میں بھی لیویز کی جگہ پولیس بااختیار ہوگی۔ بلوچستان میں سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور ان جماعتوں کے قائدین کے مطابق لیویز علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پولیس علاقوں کی نسبت بہتر رہی ہے۔ حاجی آدم خان نے اس بارے میں بتایا کہ پہلے لیویز اور پولیس کے مقرر کردہ علاقوں میں ابہام پایا جاتا تھا جس لیے یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ یہ پولیس کا علاقہ ہے اور یہ لیویز کا علاقہ ہے اس وجہ سے ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب پولیس ذمہ دار ہوگی اور لیویز کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔ |