BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سوری تم تو صحافی ہو‘

سعیدگھر سے پریس کلب جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہوگئے تھے
کراچی میں خفیہ ادارے کی حراست میں رہنے والے صحافی سعید سربازی نے کہا ہے کہ انہیں تین دن تک مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے اغوا کار ان سے بلوچستان لبریشن آرمی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے سعید سربازی سے رابطہ کیا ہے اور ان سے واقعے کی تفصیلات معلوم کی ہیں۔

سعید سربازی نے سنیچر کے روز پریس کلب میں گمشدگی کے دوران روا رکھے جانے والے سلوک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز جب وہ بھیم پورہ کے علاقے سے پریس کلب آ رہے تھے تو جمیلہ چوک پر کچھ لوگ ان کی گاڑی کے سامنے آگئے اور ایک نے ان کی گردن پر پستول رکھ دیا۔

’میں سمجھا کہ کار چھیننے والے ہیں، میں نے انہیں بتایا میں صحافی ہوں انہوں نے کہا اترو دہشت گرد‘۔

سعید سربازی نے کہا کہ جن لوگوں نے انہیں اغوا کیا تھا وہ حلیے سے پولیس اہلکار نظر آ رہے تھے۔’میں کہتا رہا کہ میں دہشت گرد نہیں ہوں میں صحافی ہوں انہوں نے کہا کہ سب بتائیں گے۔

سعید سربازی نے کہا کہ قریباً بیس منٹ کے سفر کے بعد انہیں اس مقام پر لے جایا گیا جہاں ان کو حراست میں رکھا گیا۔’ بیس منٹ تک وہ گاڑی چلاتے رہے اور اس دوران میں نے محسوس کیا کہ کچھ مقامات پر ٹریفک جام تھا‘۔

سعید سربازی نے بتایا کہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی جوتین روز تک بندھی رہی۔انہوں نے کہا کہ جس کمرے انہیں رکھا گیا اس کمرے میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔

سعید کے مطابق ان کے اغوا کارروں نے ان کی ولدیت، تاریخ پیدائش، تعلیمی قابلیت اور بزنس ریکارڈر میں ملازمت کی تفصیلات پوچھیں۔

سعید سربازی نے کہا کہ انہوں نےاغواکارروں نے پوچھا کہ کیا تم’ آج‘ ٹی وی کو بھی رپورٹ دیتے ہو‘۔

تشدد کی تفصیلات کے بتاتے ہوئے سربازی نے کہا کہ ایک ’ایئرکنڈیشز کمرے میں مجھ کھڑا کر کے مجھے مارنا شروع کردیا‘۔

سربازی نے کہا کہ انہوں نے اغوا کارروں کو انسانیت کے واسطے دیئے اور کہا انہیں ذلیل نہ کیا جائے۔ ’میں نے انہیں بتایا جس علاقے سے آیا ہوں وہاں بہت کم لوگ پڑھے لکھے ہیں، میں نے یہ مقام بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے‘۔

سعید سربازی نے کہا کہ اغوا کار کہتے تھے کہ ہم جو پوچھیں وہ سچ سچ بتاؤ تو صبح تک چھوڑ دیں گے۔ حراست کے دوران ایک ڈاکٹر نے ان کا بلڈ پریشر چیک کیا تھا۔

’اغوا کارروں نے مجھے ایک کاپی پینسل دی اور کہا کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے بارے میں جو کچھ جانتے ہو لکھو‘۔

سعید سربازی نے بتایا کہا انہوں نے اغوا کاروں کو بتایا کہ انہیں بلوچستان لبریشن آرمی کے بارے کچھ معلوم نہیں ہے۔’اغوا کار جاننا چاہتے تھے کہ بی ایل اے کے پمفلٹ کہاں چھپتے ہیں، بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کتنے گروپ ہیں‘۔
سعید سربازی نے کہا کہ اغوا کارروں نے طنزیہ انداز میں کہا ’بڑے فون کرتے ہو‘۔
’میں بار بار پوچھتا رہا کہ مجھے کس قانون کے تحت حراست میں رکھا ہے مجھ کسی قانون کی حد میں لاؤ اگر کوئی شکایت ہے تو میرے ادارے یا صحافی تنظیموں سے رابطہ کرو‘۔

سعید سربازی نے کہا کہ انہیں تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔’ مجھے کھڑا کیے رکھا، سونے نہیں دیتے تھے، اور جیسے ہی میں اونگھ جاتا ایک شخص آکر کہتا سونا نہیں ہے‘۔

سعید سربازی نے بتایا کہ ہفتے کی شب انہوں نے کہا’ سوری ہم نے غلط بندہ اٹھا لیا تم تو صحافی ہو‘۔

سعید سربازی نے کہا کہ جب میں نے کہا کہ میں تو آپ کو بار بار بتاتا رہا ہوں کہ میں صحافی ہوں اور میرا بلوچستان لبریشن آرمی سے کوئی تعلق نہیں تو جواب ملا ’ بکواس بند کرو‘۔

بعد میں مجھے ایک ٹرک میں بٹھایا دیا گیا اور ایک جگہ پر یہ کہہ کر اتارا دیا کہ پیچھے نہیں دیکھنا ہے۔

سعید نے بتایا کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ انہیں کہاں اتارا گیا۔مجھے پتہ نہیں تھا میں کہاں ہوں ۔میں ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر پہنچا ہوں۔‘

اسی بارے میں
ایک گمشدہ آفیسر ہلاک
16 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد