پولیو، ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس سال پولیو کے پینتیس اور مچھروں سے پھیلنے والے ڈینگی وائرس سے ممکنہ طور پر متاثرہ پانچ ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں۔ اس بات کا انکشاف وفاقی وزیر صحت نصیر احمد خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نصیر خان کا کہنا تھا کہ پولیو سے بچاؤ کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی مہم شروع کی تھی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں پولیو کے جو پینتیس مریض سامنے آئے ہیں ان میں سے بیشتر افغان پناہ گزین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک بھارت اور افغانستان میں پولیو کا مرض موجود ہے اور وہاں سے ہی پاکستان میں پھیلتا ہے۔ نصیر خان نے زور دیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی اور ضلعی حکومتوں سے مل کر اس مرض کے پاکستان سے مکمل خاتمے کے لیے ایک بھرپور مہم شروع کر رہی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پولیو کے سب سے زیادہ مریض یعنی چودہ صوبہ سرحد میں سامنے آئے ہیں جبکہ سندھ میں سات، بلوچستان میں نو اور صوبہ پنجاب میں دو مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارہِ صحت کے نمائندہ بھی اس موقع پر وفاقی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کو ’پولیو فری‘ ملک بنانے کے لیے مکمل تعاون کر رہا ہے اور اس سلسلے میں آئندہ بھی ہر ممکن مدد کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو ’پولیو فری‘ ملک بنا دیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ مچھروں سے پھیلنے والے ڈینگی وائرس سے متاثرہ مشتبہ مریضوں کی تعداد پانچ ہزار تین سو چھبیس ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق یہ مریض ملک کے مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھروں کی کئی اقسام ہیں لیکن پاکستان میں ایک خاص قسم کا مچھر یہ وائرس پھیلاتا ہے، جو گھروں میں رہتا ہے اور پانی جمع کرنے والے کھلے برتنوں مثلاً ٹینک، ڈرم، بالٹی، گھڑے وغیرہ میں انڈے دیتا ہے۔ | اسی بارے میں ہندوستان: پولیو کے 100 نئے کیس25 October, 2006 | انڈیا ڈینگی سے ہلاکتیں اٹھائیس ہوگئیں30 October, 2006 | پاکستان مشکل اور خطرناک پولیومہم07 May, 2006 | پاکستان ’بیماریاں، صورت حال نہیں چھپائی‘11 December, 2005 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان پولیو کی دوا: سنگین غلط فہمیاں 17 August, 2005 | انڈیا پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ14 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||