ڈینگی سے ہلاکتیں اٹھائیس ہوگئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد کے ایک نجی ہسپتال میں ڈینگی وائرس میں مبتلا ایک مریض کی ہلاکت کے بعد گذشتہ چار ماہ کے دوران سندھ میں اس مرض سے ہونے والی اموات کی تعداد اٹھائیس ہوگئی ہے۔ ڈینگی وائرس سے پیر کو ہلاک ہونے والے مریض کا نام ندیم شیخ معلوم ہوا ہے جو 14 اکتوبر سے حیدرآباد کے ہسپتال میں داخل تھے، جبکہ اطلاعات کے مطابق پیر کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 65 ایسے مریضوں کو لایا گیا جو بظاہر اسی وائرس سے متاثرہ تھے۔ ڈینگی وائرس کے بارے میں صوبائی حکومت کی جانب سے قائم ’سرویلنس کمیٹی‘ کے سربراہ کیپٹن ماجد نے بتایا کہ ہسپتالوں میں زیر علاج ڈینگو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد اب 216 ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جون سے لیکر ستمبر تک ڈینگی وائرس سے 28 افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ سو پچاس کے لگ بھگ متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ سو پچاس کی ڈینگو وائرس میں مبتلا ہونے کی باقاعدہ تصدیق ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ شہری حکومت کی جانب سے مچھر مار اسپرے بھی کروایا گیا تھا مگر سفید مچھر سے پھلنے والے اس بیماری میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ سرکاری
اسلام آباد میں محکمہ صحت کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہزار ستر ہوگئی ہے، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس سے متاثرہ مزید انیس مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں اگرچہ دیگر وبائی امراض سے بھی لوگ متاثر ہوتے ہیں مگر ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے اور ان کی تشہیر کی وجہ سے لوگوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں پشاور میں ڈینگو سے ایک ہلاک28 October, 2006 | پاکستان لاہور میں ڈینگو بخار کا خدشہ28 October, 2006 | پاکستان ڈینگی وائرس سے 400 افراد متاثر24 October, 2006 | پاکستان پاکستان: ڈینگو سے بچاؤ کی مہم14 October, 2006 | پاکستان ڈینگی فیور: گیارہ سو سے زائد متاثر21 October, 2006 | پاکستان ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک14 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||