ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ڈینگو بخار سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے، جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ شہر کے ایک نجی ہسپتال میں جمعہ کو ڈینگو وائرس میں مبتلا ایک اور مریض ہلاک ہوگیا جبکہ ہیمرجک فیور میں مبتلا مریضوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس کے لیئے سرویلنس کمیٹی بھی بنائی ہے، کمیٹی کے سربراہ کیپٹن ماجد کے مطابق جمع کے روز ضیاالدین ہسپتال میں ایک اٹھائیس سالہ مریض کو لایا گیا تھا جو جانبر نہ ہوسکا۔ انہوں نے بتایا اس وقت شہر کی سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایک سو پچپن مریض زیر علاج ہیں جن میں اکتالیس کو سنیچر کے دن داخل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگو وائرس کا شکار مریض کے خون سے سرخ خلیے ختم ہوجاتے ہیں، اس لیئے انہیں سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں خون میں سے سرخ خلیے الگ کرنے کی مشینوں کی کمی اور فوری طور پر خون کی دستیابی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چار بوتل خون میں سے سرخ خلیوں کی ایک بوتل بنتی ہے، اس لیئے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔
پروفیسر نوشاد نے بتایا کہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کی کمی ہوئی ہے مگر محکمہ صحت کے پاس ابھی کچھ تعداد میں یہ موجود ہیں مزید باہر سے منگوائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگی وائرس کے ایک مریض کو پلیٹ لیٹس ( سرخ خلیوں) کا ایک میگا یونٹ درکار ہوتا ہے۔ شہر میں ڈینگو وائرس کے کیس بڑھنے کے بعد مقامی ہسپتالوں میں اس کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ ٹیسٹ صرف نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور آغا خان کراچی میں کیے جاتے تھے۔ سیکریٹری صحت نے بتایا کہ ان ٹیسٹوں کی فیس دو ہزار سے کم کرکے چھ سو روپے کردی گئی ہے، جس میں آدھی رقم حکومت کی جانب سے ادا کی جارہی ہے۔ دوسری جانب شہری حکومت نے مچھر مارنے کے لیئے سپرے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ عوام میں آگاہی کے لیئے اخبارات میں اشتہارات دیئے جارہے ہیں کہ گھروں میں سورج کی روشنی میں مچھر مار دوا کا استعمال کیا جائے۔ | اسی بارے میں ڈینگو وائرس سے 38 افراد ہلاک05 October, 2006 | انڈیا انڈیا: ڈینگو بخار سے پچیس ہلاک03 October, 2006 | انڈیا کراچی میں شدید بخار، پانچ ہلاک03 October, 2006 | پاکستان وائرل ہیمریجک فیور میں 5ہلاک 26 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||