ڈینگو وائرس سے 38 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے ڈینگو کو وباء قرار دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری پر پوری طرح سے قابو پانے کے لیئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ صحت کے مرکزی وزیر امبو منی رام دوس نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک ڈینگو وائرس سے ہندوستان بھر میں 38 اموات واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ملک میں دو ہزار نوسو افراد ڈینگو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 673 افراد کا تعلق دلی سے ہے۔ ان کے مطابق ڈینگو سے ہونے والی 38 میں سے پندرہ اموات دارالحکومت دلی میں ہوئیں جبکہ گجرات میں تین ، راجستھان میں سات، مغربی بنگال میں تین اور کیرلا میں چار اموات ہوئی ہیں۔ رام دوس نے ڈینگو کے سلسلے ميں میڈیا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں میڈیا نے اچھے اور برے دونوں کردار ادا کیے ہیں۔ برا اس لیئے کیونکہ میڈیا نے عوام میں گھبراہٹ پھیلائی ہے اور اچھا اس لیئے کہ ڈینگو وائرس کے بارے میں عوام میں میڈیا کی مدد سے شعور پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگو کا علاج مشکل نہیں ہے اور کسی بھی ہسپتال میں اس کا علاج کیا جا سکتا ہے ۔ لوگوں کو نئی دہلی کے ایمز جیسے بڑے اسپتال میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صحت کے وزير نے ایک بار پھر ڈینگو کو وبائی بیماری قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل یہ پورا معاملہ صفائی سے تعلق رکھتا ہے اور اکیلے حکومت کے لیئے اس سے نمٹنا مشکل ہوگا۔ گزشتہ برس پورے ملک میں ڈینگو وائرس کے گیارہ ہزار نو سو کیس سامنے آئے تھے اور اس بیماری نے 157 افراد کی جانیں لیں تھیں۔ | اسی بارے میں انڈیا: ڈینگو بخار سے پچیس ہلاک03 October, 2006 | انڈیا ممبئی وبائی بخار کی لپیٹ میں11 August, 2005 | انڈیا دلی میں گردن توڑ بخار کا قہر06 May, 2005 | انڈیا اترپردیش: دماغی بخار سے630ہلاک09 September, 2005 | انڈیا دماغی بخار سے آٹھ سو افراد ہلاک17 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||