اترپردیش: دماغی بخار سے630ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست اترپردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ جاپانی دماغی بخار سے مزید چونتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس طرح ریاست میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد چھ سو تیس ہو گئی ہے۔ مقامی ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بیماری پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گورکھ پور کے ایک سینیئر ڈاکٹر پروفیسر کے پی کھرانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ میں نے حکومت سے نئی ویکسین کی درآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ڈرگ کنٹرول محکمہ کے حکام نے اسے رد کر دیا‘۔ علاقے کے دورہ کرنے والے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ علاقے میں ادویہ اور ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے۔ ریاست اتر پردیش میں عوام کو اس بیماری سے بچاؤ کے ٹیتکے لگانے کا ہنگامی پروگرام شروع کر دیا گیا ہے لیکن اس سلسلے مںی دوا کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ بھارت میں تیار ہونے والی ویکسین صرف نصف آبادی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری اب قریبی ریاست بہار اور قریبی ملک نیپال میں بھی پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر مریض دیہی علاقوں کے انتہائی غریب افراد ہیں۔ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری میں مزید ساڑھے پانچ سو افراد مبتلا ہوچکے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے لگ بھگ ابھی ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||