دماغی بخار سے آٹھ سو افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش کے سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ اس سال جاپانی دماغی بخار سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 800 تک پہنچ گئی ہے۔ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری پر قابو پانے میں ریاستی حکومت ناکام رہی ہے۔ اس بیماری کے شکار مریضوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اتر پردیش میں بی بی بی سی کے نامہ نگارے کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 130 نئے مریض داخل کیے گئے ہیں۔ زیادہ تر مریضوں کو گورکھپور کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے لیکن اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے مریضور کو ضروری صہولیات نہیں مل پا رہی ہیں۔ اسپتالوں میں بستروں کے لئے جگہ نہیں ہے جس کے سبب مریضوں کو زمین پر رکھا گیا ہے۔ مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب سبھی مریضوں کو دوائیں بھی نہیں مل پا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے صحت کے وزیر رام داس نے ریاستی حکومت کے کام کاج پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ بھاری بارش اور سیلاب کے سبب راحت کے کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اسی چاپانی دماغی بخار نے نیپال میں 70 افراد کی جان لے لی ہے لیکن وہاں حکام کا کہنا ہے کہ اب اس بیماری پر قابو پا لیا گیا ہے۔ دماغی بخار کوئي عام بیماری نہیں ہے۔ ایک لاکھ لوگوں میں 0.5 فیصدلوگ ہی اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں ہیں اور زیادہ تر اس بماری کا شکار بچے ہوتے ہیں۔ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی اس بیماری کے شکار مریض میں تیز بخار ، سردرد، بھوک نہ لگنا اور کمزوری جیسی علامتیں نظر آتی ہیں۔ اور بیماری کے بڑھنے پر سردرد ، الٹی اور بہت تیز بخار ہو جاتا ہے اور مریض " کومہ" میں بھی چلا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||