BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: ڈینگو سے بچاؤ کی مہم

مچھر
ایک خاص قسم کے مادہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والا وائرس ڈینگو بخارکا سبب بنتا ہے
پاکستان میں اِن دنوں ’ ڈینگو فیور وائرس‘ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی روک تھام کے لیئے سندھ کی صوبائی حکومت نے عوام میں آگہی پیدا کرنے کی مہم شروع کی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے اسلام آْباد میں اس کی روک تھام کے لیئے دوائی چھڑکانے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

وفاقی وزارت صحت سے ملحقہ ’ ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول‘ کے سینیئر سائنٹیفک افسر ڈاکٹر محمد مختار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ دنیا میں بتیس ہزار اقسام کے مچھر ہیں اور پاکستان میں ایک سو تیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے ایک خاص قسم کے مادہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والے وائرس سے لوگ ڈینگو بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام میں آگہی پیدا کرنے اور ان کی احتیاطی تدابیر اختیار کیے بنا اس وبا پر قابو پانا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ڈینگو فیور کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر مختار نے یہ بھی بتایا ہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت اور کراچی کی ضلعی حکومت کو گزشتہ برس دسمبر میں خبردار کر دیا گیا تھا کہ اپریل سن دو ہزار چھ کے بعد دوبارہ ڈینگو وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے اس لیئے وہ عوام میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا دفاعی انتظام بھی تیار رکھیں۔ لیکن ان کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کے لیئے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیئےگئے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے عوام میں مفت تقسیم کرنے کے لیئے آٹھ ہزار کلوگرام سے زائد مچھر مار ادویات اور اتنی ہی تعداد میں مچھر دانیاں فراہم کی گئیں تھیں مگر صوبائی اور ضلعی انتظامیہ اس سے بھرپور استفادہ نہیں کرسکی۔

ڈینگو وائرس
 ڈینگو وائرس پھیلانے والا مچھر گندگی میں نہیں بلکہ گھروں میں رہتا ہے۔ ان کے بقول گھر کے اندر پانی کے ٹینک، غسلخانوں اور جہاں بھی پانی کسی بالٹی ، ڈرم یا گھڑوں میں رکھا جاتا ہے وہاں یہ مچھر پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر مختار

جبکہ صوبہ سندھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلعی حکومت کے ساتھ مل کر جہاں مختلف علاقوں میں دوائی کا چھڑکاؤ کیا ہے وہاں مچھر دانیاں بھی تقسیم کی ہیں۔ محکمہ صحت کے نمائندے کے مطابق کراچی کی آبادی سوا کروڑ سے زائد ہے اور اس کے لیئے آٹھ ہزار مچھر دانیاں بہت کم ہیں۔

کراچی میں حالیہ ڈینگو فیور وائرس کی لہر سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور محکمہ صحت نے ان کے اعداد وشمار جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ سندھ کے محکمہ صحت نے سنیچر کے روز بعض اخبارات میں ڈینگوبخار سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے متعلق اشتہار بھی شائع کروائے ہیں۔

وفاقی وزارت صحت کے ملیریا سے متعلق ادارے میں تحقیقات کرنے والے افسر ڈاکٹر محمد مختار نے بتایا کہ ڈینگو وائرس پھیلانے والا مچھر گندگی میں نہیں بلکہ گھروں میں رہتا ہے۔ ان کے بقول گھر کے اندر پانی کے ٹینک، غسلخانوں اور جہاں بھی پانی کسی بالٹی ، ڈرم یا گھڑوں میں رکھا جاتا ہے وہاں یہ مچھر پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد مختار نے یہ بھی بتایا ہے کہ ڈینگو وائرس پھیلانے والا مچھر سورج طلوع ہونے سے چند گھنٹے قبل اور غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد اپنی خوراک کی تلاش میں نکلتا ہے۔ ان کے مطابق ڈینگووائرس کے جسم میں داخل ہونے کی علامات میں نزلہ زکام، بخار، سر درد، منہ اور ناک سے خون آنا، پیٹ کے پیچھے کمر میں درد ہونا اور جسم پر سرخ دانے وغیرہ نکلنا شامل ہیں اور اسے اگر فوری طور پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر ’ڈینگو ہیمرج فیور‘ شروع ہوتا ہےجو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد مختار نے اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگو وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مختار کے مطابق دنیا کی چالیس فیصد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے اور ہر سال پانچ کروڑ کیسزسامنے آتے ہیں جس میں سے پوری دنیا میں سالانہ پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا میں پہلی بار انیس سو چون میں اس بیماری کے بارے میں پتا چلا اور اس خطے میں پوری شدت کے ساتھ پہلی بار1989 سری لنکا میں یہ ایک وبا کی صورت میں پھیلی۔

ان کے مطابق پاکستان میں پہلی بار ڈینگو وائرس کراچی میں سن انیس سو پچانوے میں ریکارڈ ہوئی اور ایک سو پینتالیس مریض متاثر ہوئے اور ہلاکت صرف ایک کی ہوئی۔

پاکستان میں ڈینگو وائرس کی تاریخ بتاتے ہوئے ڈاکٹر مختار نے کہا کہ اکتوبر سن انیس سو پچانوے میں جنوبی بلوچستان اور سن دو ہزار تین میں صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور اور پنجاب کے ضلع چکوال میں میں پھیلی۔ ان دونوں اضلاع میں ترتیب وار تین اور سات سو کیسز ریکارڈ ہوئے۔ ان کے مطابق یہ وائرس گزشتہ برس کراچی میں پوری شدت سے پھیلا جس کے بعد جامع سروے کر کے حفاظتی اقدامات تجویزکیےگئے مگر ان پرکوئی خاص عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد