لاہور میں ڈینگو بخار کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے شروع ہونے والے مہلک ڈینگو بخار سے متاثر مریض لاہور اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ شیخ زید ہسپتال لاہور میں جمعہ کے دن چار مریض ایسے لائے گئے جن کی علامات سے شبہ ہوا کہ وہ ڈینگو وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ان مریضوں کے خون کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ان میں سے دو مریض ایسے ہیں جنہیں ناک اور پیشاب سے خون آرہا تھا۔ ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر صبور ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے بیماریوں کی ملتی جلتی علامات ہوتی ہیں اس لیئے اب تک ان مریضوں کے خون کے ٹیسٹ ڈینگو وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہ کردیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے دن دو مریض شدید بیماری کی حالت میں ہسپتال لائے گئے اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر ہلاک ہوگئے۔ ہسپتال کے منتظم نے کہا کہ ان مریضوں کے خون کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ دونوں مریض ڈینگو وائرس کا شکار ہوئے۔ تاہم لاہور کے انگریزی روزنامہ دی نیشن نے ان ہلاک ہونے والے مریضوں کے ڈاکٹروں کے حوالہ سے دعوی کیا ہے کہ دونوں ہلاک ہونے والے مریضوں میں ہیمورجک بخار تھا جو ڈینگو وائرس سے ہوتا ہے اور ان کے ابتدائی کلینکل ٹیسٹ کے مثبت نتائج آئے تھے۔ دوسری طرف، اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں گزتشہ چوبیس گھنٹوں میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں انیس مشتبہ مریضوں کے خون ڈینگو وائرس کے ٹیسٹ کےلیے جمع کرائے گئے ہیں۔ سندھ کے محکمہ صحت کےمطابق اب تک دو اکتوبر سے اب تک صوبہ کے مختلف ہسپتالوں میں ڈیڑھ ہزار سے زیاد ایسے مریض داخل کرائے گئے ہیں جن کی علامات ڈینگو بخار کی تھیں۔ | اسی بارے میں ڈینگی فیور: گیارہ سو سے زائد متاثر21 October, 2006 | پاکستان ڈینگی وائرس سے 400 افراد متاثر24 October, 2006 | پاکستان ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک14 October, 2006 | پاکستان پاکستان: ڈینگو سے بچاؤ کی مہم14 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||