ڈینگی فیور: گیارہ سو سے زائد متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے بتایا ہے کہ سفید مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ہیمرجک فیور سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تئیس افراد ہلاک جبکہ گیارہ سو سے زائد متاثر ہوئے ہیں ، جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے مریضوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ محمکہ صحت کا کہنا ہے اس کا بیماری کا اثر خشک موسم تک جاری رہے گا۔ مریضوں کی اصل تعداد صوبائی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر کے مختلف ہسپتالوں میں ایک سو ستر سے زائد مریض زیر علاج ہیں جبکہ کراچی میں بیس اور اندرون سندھ میں تین مریض فوت ہوچکے ہیں۔ڈاکٹروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہیں مریضوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کراچی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ تمام اعداد شہر کے چند سرکاری ہسپتالوں سے لیکر بتائے جارہے ہیں جبکہ اس وقت شہر میں چار سو سے زائد نجی ہسپتال اور چھ ہزار سے زائد کلینک ہیں۔ اگر ہر نجی ہسپتال میں روزانہ ایک مریض آرہا ہے تو چار سو مریض بنتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس صرف پندرہ ہسپتالوں کے اعداد و شمار ہیں تاہم وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے محکمے کا تمام ہسپتالوں سے رابطہ ہو اور انہیں ہدایت کی جائے کہ ڈینگی کی علامات کے مریض جیسے ہی ہسپتال یا کلینک آئیں تو اس کی اطلاع دی جائے اور ٹیسٹ کروائے جائیں۔ خون بھاتے ہوئے مریض عام طور پر لوگ مقامی ڈاکٹروں کے کلینک سے دوائی لینے کو ترجیح دیتے ہیں جو مرض کی تشخیص نہیں کر پاتے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے مرض بگڑ جاتا ہے۔ جناح ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جب مریضں کے منہ سے خون بہنا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے ہسپتال لایا جاتا ہے، پرائیوٹ ڈاکٹر ان کو طرح طرح کی دوائیں دیتے ہیں جس میں ائنٹی ملیریا ڈرگ شامل ہے، جو کہ اس بیماری میں بالکل نہیں دینی چاہیئے۔ اس طرح سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر کلیم بٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ خوف ہے کہ ڈینگی بخار میں موت واقع ہوجاتی ہے اس لئے مریض کے رشتے دار پریشان ہوجاتے ہیں لیکن ڈینگی میں شرح اموات چار فیصد ہے جو بہت کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری میں ایک بڑے عرصے تک تیز بخار ہوتا ہے، جسم میں درد رہتا ہے اور جسم کے کسی حصہ سے خون بہتا ہے۔ ان مریضوں کا علاج کا کیا جاسکتا ہے مگر یہ علاج گھر میں نہیں ہوسکتا ہے۔ ٹیسٹ اور پلیٹ لیٹس ڈینگی وائرس سمیت دیگر حساس وائرس کے ٹیسٹ اسلام آباد نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ میں کیے جاتے تھے مگر اب یہ کراچی میں بھی کیے جارہے ہیں ۔ صوبائی وزیر کے مطابق شہر میں اب یہ ٹیسٹ دو نجی اور ایک سرکاری ہسپتال میں کیے جارہے ہیں۔ اس ٹیسٹ کی کم سے کم فیس چھ سو روپے بنتی ہے۔ مگر اب اس کی آدھی رقم سٹی حکومت ادا کریگی۔ اس طرح پلیٹ لیٹس کی ساڑھے سات ہزار فیس میں سے پانچ سو رپے تمام بلڈ ٹرانسفیوژن ایجنسیز رعایت کرینگی جبکہ پچاس فیصد فیس سٹی حکومت ادا کریگی ۔ پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کا مطالبہ ہے کہ وائرس کے ٹیسٹ اور پلیٹ لیٹس کی فراہمی مفت ہونی چاہیئے اور یہ سہولت سرکاری ہسپتالوں میں دی جائے۔ پی ایم اے کے ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق سرکاری طور پر کم سے کم تنخواہ چار ہزار روپے ہے اگر کسی غریب کا بچہ اس بیماری میں مبتلاہے تو وہ یہ پلیٹ لیٹس خریدنے کی قوت نہیں رکھتا ہے۔ اور اگر وہ یہ رقم اس کے لئے دے بھی دیتا ہے تو پھر اس کے لیئے باقی ضروریاتِ زندگی پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح حکومت تو غریبوں کو مار رہی ہے۔
حفاظتی تدابیر اور سپرے صوبائی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں اور عوام کو اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لئے شہری حکومت کی جانب سے سپرے بھی کروایا جارہا ہے۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے مطابق اٹھارہ ٹاؤن کی تمام یونین کاؤنسلوں میں یہ سپرے کیا گیا ہے اور کافی علاقوں میں دوبارہ بھی کیا جائیگا جبکہ کینٹونمینٹ کے علاقوں میں وہاں کے حکام کی جانب سے یہ انتظامات کیے گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے شہری حکومت کو فضائی اسپرے کی اجازت دے دی ہے۔ سٹی ناظم نے بتایا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ فضائی اسپرے کارگر ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہوسکتا ہے تو ان کی تمام تیاری مکمل ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ بیماری مچھر کے کاٹنے سے سے پھیل رہی ہے مگر حکومت اس مچھر کی افزائش پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہے ، انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کوشش کر رہی تو پھر اس بیماری میں کمی کے بجائے اضافہ کیوں ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں وائرل ہیمریجک فیور میں 5ہلاک 26 November, 2005 | پاکستان کراچی میں شدید بخار، پانچ ہلاک03 October, 2006 | پاکستان ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک14 October, 2006 | پاکستان پاکستان: ڈینگو سے بچاؤ کی مہم14 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||