پولیو: افواہوں کے خلاف مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیو کے قطروں کے حوالےسے اب بھی ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ انسانی صحت کے لیے صحیح نہیں ہیں لیکن ماہرین نے سنیچر کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ پولیو کے قطرے انتہائی محفوظ ہیں۔ کوئٹہ میں یونیسف اور محکمہ صحت سے وابستہ ماہرین نے پولیو کے خاتمے کے لیے ذرائع ابلاغ کے کردار کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں کہا ہے کہ پاکستان میں اس سال پولیو کے صرف سات مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے دو کا تعلق بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے تھا۔ اس سیمینار میں مختلف سوالات اٹھائے گئے جیسے بعض مقامات پر دینی مدارس کے رہنماؤں نے پولیو کے قطروں کو بانجھ پن سے جوڑا تو بعض نے انہیں نقصان دہ قرار دیا۔ جینیوا سے آئے ہوئے ڈاکٹر نوید احمد سدوزئی نے ان خدشات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قطرے محفوظ ہیں اور اس حوالے سے مستند علماء کرام اور بڑے تعلیمی اداروں کے اکابرین نے فتوے جاری کیے ہیں کہ ان کے پلانے سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مرض سے آگاہی ضروری ہے اور ذرائع ابلاغ اس میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ مرض گندگی اور ناقص خوراک سے پھیلتی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کو پلانا ضروری ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم انیس سو چورانوے میں شروع کی گئی اور ماہرین نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق سالانہ بیس سے پچیس ہزار بچے اس مرض میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ | اسی بارے میں مشکل اور خطرناک پولیومہم07 May, 2006 | پاکستان پولیو فری پاکستان کے لیے کوشش03 September, 2005 | پاکستان پولیو : عالمی امداد کی بندش کا خدشہ14 March, 2005 | پاکستان کشمیر میں پولیو کا خاتمہ :حکام15 January, 2005 | پاکستان پولیو کا خاتمہ: ابھی وقت لگے گا30 March, 2007 | پاکستان پولیو، ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ23 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||