فوج نے اتنا خطرہ کیوں مول لیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تیس اگست کی صبح چھ بجے ایک فوجی قافلہ احمدزئی وزیر قبائل کے علاقے شکئی سے محض تیس کلومیٹر کی دوری پر محسود خطے میں لدھا کی جانب روانہ ہوا لیکن آج تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ اس قافلے کو آدھے راستے میں محسود طالبان نے لوٹ لیا۔ ڈھائی سو سے زائد فوجی بغیر گولی چلے طالبان کے پیچھے چل دیے جبکہ طالبان نے کئی گاڑیاں قبضے میں لے لیں۔ اس حیران کن واقعے کی آخر وجہ کیا تھی؟ آیا چند روز قبل انیس فوجیوں کو یرغمال بنائے جانے اور سولہ دن کی حراست کے بعد رہائی نے مقامی محسود طالبان کو اتنا بےخوف بنا دیا کہ انہوں نے نتائج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اتنا بڑا ہاتھ مار دیا یا یہ فوج کے اندر مؤثر رابطوں کا فقدان ظاہر کرتا ہے؟ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد ایک بات تو کم از کم ظاہر تھی کہ اس پہاڑی علاقے میں ایک آدھ گاڑی ہی نہیں قافلے کے قافلے نا صرف باآسانی حملوں کی زد میں آسکتے ہیں بلکہ انہیں گھیرے میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس خطے کے باسیوں کی رگ رگ میں عسکریت تو بھری ہے ہی لیکن ان کی اس عسکریت پسندی کی مدد علاقے کا جغرافیہ بھی کرتا ہے۔ اونچے نیچے پہاڑ، گہری کھائیاں اور پر پیچ راستے گوریلا جنگ کے لیے ہمیشہ آئیڈیل رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی باہر کا شخص چاہے وہ امریکی ہو یا پشاور کا یہاں غیر ملکی یا کسی اور دنیا کا دکھائی دے گا۔
خیر ذکر فوجی قافلے کا تھا تو اس کے بارے میں کافی سوالات ذہن میں آئے۔ آخر فوجی قیادت نے کیوں اتنا خطرہ مول لیتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو روانہ کیا؟ آیا یہ کام علاقے میں کشیدگی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیلی کاپٹروں سے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر نہیں سر انجام دیا جا سکتا تھا؟ مقامی طالبان کا دعویٰ ہے کہ تیس اگست کے اس واقعے سے دو روز قبل ہی ان کا حکومت سے انیس فوجیوں کی رہائی کے بدلے ایک ’زبانی’ معاہدہ ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ محسود علاقے میں فوج کی آمد بند ہو جانی چاہیئے اور صرف وہاں موجود فوجی اگر واپس جانا چاہیں تو بتدریج طریقے سے جاسکیں گے۔ طالبان تیس اگست کے قافلے کی آمد کو اس سمجھوتے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ البتہ دوسری جانب اسلام آباد میں فوجی حکام کسی ایسے معاہدے سے سختی سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ فروری دو ہزار پانچ میں بیت اللہ محسود اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں تو بعد میں یہ کیسے طے ہوسکتا ہے۔
تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اگر معاہدہ ہوا بھی ہو تو اس کا علم تعینات فوجیوں کو نہیں ہوتا۔ یہ کام اعلیٰ فوجی قیادت کا ہوتا ہے۔ ایسا اس قافلے کے ساتھ بھی ہوا۔ اس فوجی قافلے کے اہلکاروں سے مقامی طالبان کا پہلا سوال یہی تھا کہ کیا آپ نے اٹھائیس اگست کا معاہدہ نہیں دیکھا۔ ایک اور وجہ جس نے قافلے پر مشکل نازل ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ قافلے کی حفاظت کے لیے غیرمعمولی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی تھی۔ بڑی تعداد میں ’پروٹیکشن پارٹیز‘ کے آنے سے مقامی طالبان کو شبہہ ہوا کہ ان کے آنے کا مقصد قافلے کی حفاظت تھی یا فوجی کارروائی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حفاظت کے لیے لائے گئے سپاہیوں کی تعداد معمول سے کافی زیادہ تھی۔ مقامی طالبان کا کہنا تھا کہ قافلے کو گھیرے میں لینے کے فورا بعد اس کی قیادت کرنے والے افسروں نے اپنے ہیڈکواٹر واپسی کی درخواست بھی کئی بار کی تھی۔ اس کا مقصد فریقین کو معاملہ تسلی بخش انداز میں حل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا جس کے بعد دوسرے روز راشن روانہ کیا جاسکتا تھا۔ البتہ ’اوپر‘ سے حکم بظاہر یہی تھا کہ وہیں رکے رہیں جرگہ اراکین سے بات ہو رہی ہے۔ اس چار گھنٹے کے تعطل کے دوران طالبان کو اپنا گھیرا مستحکم کرنے کا موقع اور مناسب وقت مل گیا۔ انہوں نے پھر وہ کیا جس کی مثال انیس سو اکہتر کے بعد نہیں ملتی۔ اس تمام صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مؤثر رابطے اور شاید ہوم ورک کی کمی اس ’بھدے‘ واقعہ کی وجوہات بنیں۔ جب تک اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاتا یرغمال بنائے جانے والے فوجیوں کی جان خطرے سے دوچار ہے۔ ان کو پھنسانے میں جس کا جو کردار تھا اسے فی الحال نظر انداز کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں بچانے میں ایسی غلطیاں نہ ہوں۔ |
اسی بارے میں فوج ہمیں بھلا نہیں سکتی:یرغمال فوجی11 October, 2007 | پاکستان وزیرستان جھڑپیں دوبارہ شروع12 October, 2007 | پاکستان حکومت رہائی میں سنجیدہ نہیں: طالبان ترجمان11 October, 2007 | پاکستان میر علی سے نقل مکانی میں تیزی11 October, 2007 | پاکستان وزیرستان آپریشن روکا جائے: قاضی10 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||