BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 October, 2007, 02:51 GMT 07:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میر علی سے نقل مکانی میں تیزی

میران شاہ سے نقل مکانی
لوگ چار گھنٹے پیدل سفر طے کرکے ٹرانسپورٹ تک رسائی پا رہےہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان چار دن کی لڑائی کے بعد اب حالات قدرے پرسکون ہیں جس کے بعد متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

میر علی اور اس کے نواحی علاقوں میں ہونے والی اس لڑائی میں سرکاری اعداوشمار کے مطابق اب تک دو سو شدت پسند اور اڑتالیس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

میر علی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے اور بدھ کو بھی شہر سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ میر علی کے مکینوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر کے بنوں پہنچی ہے جبکہ مزید لوگ آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کافی تعداد میں زخمیوں کو بھی بنوں لایا گیا ہے ہیں جن میں سے بعض کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق زخمیوں کے علاج معالجہ کے لیے حکومت نے ہدایت جاری کی ہے اور زخمیوں کے علاج کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

پولیس سربراہ کے مطابق متاثرہ لوگوں کی رہائش اور کھانے پینے کے لیے بعض سماجی تنظیموں نے بھی انتظامات کر رکھے ہیں جہاں متاثرہ خاندانوں کے بچوں کو کھانا اور دودھ کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

کافی تعداد میں زخمیوں کو بھی بنوں لایا گیا ہے

میر علی سے تعلق رکھنے والے صحافی احسان اللہ داوڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میر علی سے اب تک اسّی ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میر علی کی تمام رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہیں اور ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے لوگ چار گھنٹوں کا پیدل سفر طے کر کے اس مقام تک پہنچ رہے ہیں جہاں سے بنوں جانے والی گاڑیاں ملتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد ایسے ہیں جو بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے پیدل چلنے کے قابل نہیں اور ان کو ہتھ ریڑھیوں کی مدد سے لے جایا جا رہا ہے۔

ادھر بدھ کومیر علی کے نواحی علاقے ایپی میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔ مقامی حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ تین ہزار افراد نے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے پچاس افراد کی نمازہ جنازہ میں شرکت کی۔

وزیرستان’ہرشخص طالب ہے‘
’فوج نہ ہٹائی گئی تو امن کا قیام ناممکن ہے‘
’ عورتیں، بچےمرے‘
تحصیل میر علی کے ایک رہائشی کا بیان
 جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک نہیں کئی چیلنج
جنرل کیانی کا آغاز وزیرستان، انجام کیا؟
9/11اس کے آگے کیا ہے؟
نائن الیون تا تحصیل میر علی، کیا کیا ہوا؟
اسد درانی’غلط حکمتِ عملی‘
’اپنے لوگوں پر گولی چلانا بہت مشکل ہے‘
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
سینکڑوں خاندان بےگھر
10 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد