BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 02:10 GMT 07:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان جھڑپیں دوبارہ شروع

میر علی بمباری سے تباہی
طیاروں کی بمباری سے میر علی میں متعدد مکانات تباہ ہوئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک دن کی خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر سکیورٹی فورسز اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ادھر مقامی طالبان کے ترجمان نے مستقل فائربندی کے امکان کو رد کرتے ہوئے گزشتہ چار روز کی لڑائی میں اپنے بیس ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری بند نہ کی تو حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مسلح مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی حدود میں واقع امین چیک پوسٹ، بانڈہ چیک پوسٹ اورگورا قبرستان پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی جس میں میران شاہ سکاؤٹس قلعہ سے توپخانے کا استعمال بھی کیا گیا۔ تاہم دونوں جانب سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس کے علاوہ جمعرات کی شام بنوں سے میرانشاہ جانے والے فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی ایف آر بکاخیل میں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جنہیں فوری طور پر بنوں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

طاقت آزمانی ہے تو مقابلہ کریں
 عام شہریوں پر بمباری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا تو حملوں میں مزید تیزی لائی جائےگی۔اگر حکومت طاقت آزمانا چاہتی ہے تو وہ عام شہریوں پر بمباری کی بجائے کھلے میدان میں طالبان کا سامنا کریں
طالبان ترجمان

سکیورٹی فورسز پر یہ حملے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مستقل فائربندی کے لیے مقامی قبائل کا ایک جرگہ بھی مذاکرات میں مصروف ہے۔جرگے نے جمعرات کی شام مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں سے سابقہ ممبر قومی اسمبلی مولانا نیک زمان کی قیادت میں ملاقات بھی کی تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

ادھر مقامی شدت پسند طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک مذاکراتی جرگہ نے ان سے علاقے میں مستقل فائربندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کی طالبان شورٰی کا فیصلہ ہے کہ وہ فائربندی کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں پر بمباری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے اور اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھ تو حملوں میں مزید تیزی لائی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر حکومت طاقت آزمانا چاہتی ہے تو وہ عام شہریوں پر بمباری کی بجائے کھلے میدان میں طالبان کا سامنا کریں‘۔

یرغمال فوجی
’حالات جیسے بھی ہوں ہم قید میں ہیں‘
طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
نقل مکانی(فائل فوٹو)’کوئی مدد نہیں کرتا‘
میر علی سے نقل مکانی کرنے والے شخص کا بیان
 جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک نہیں کئی چیلنج
جنرل کیانی کا آغاز وزیرستان، انجام کیا؟
9/11اس کے آگے کیا ہے؟
نائن الیون تا تحصیل میر علی، کیا کیا ہوا؟
’ عورتیں، بچےمرے‘
تحصیل میر علی کے ایک رہائشی کا بیان
وزیرستان’ہرشخص طالب ہے‘
’فوج نہ ہٹائی گئی تو امن کا قیام ناممکن ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد