دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | طیاروں کی بمباری سے میر علی میں متعدد مکانات تباہ ہوئے ہیں |
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک دن کی خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر سکیورٹی فورسز اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ادھر مقامی طالبان کے ترجمان نے مستقل فائربندی کے امکان کو رد کرتے ہوئے گزشتہ چار روز کی لڑائی میں اپنے بیس ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری بند نہ کی تو حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مسلح مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی حدود میں واقع امین چیک پوسٹ، بانڈہ چیک پوسٹ اورگورا قبرستان پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی جس میں میران شاہ سکاؤٹس قلعہ سے توپخانے کا استعمال بھی کیا گیا۔ تاہم دونوں جانب سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ جمعرات کی شام بنوں سے میرانشاہ جانے والے فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی ایف آر بکاخیل میں ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جنہیں فوری طور پر بنوں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔  | طاقت آزمانی ہے تو مقابلہ کریں  عام شہریوں پر بمباری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا تو حملوں میں مزید تیزی لائی جائےگی۔اگر حکومت طاقت آزمانا چاہتی ہے تو وہ عام شہریوں پر بمباری کی بجائے کھلے میدان میں طالبان کا سامنا کریں  طالبان ترجمان |
سکیورٹی فورسز پر یہ حملے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مستقل فائربندی کے لیے مقامی قبائل کا ایک جرگہ بھی مذاکرات میں مصروف ہے۔جرگے نے جمعرات کی شام مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں سے سابقہ ممبر قومی اسمبلی مولانا نیک زمان کی قیادت میں ملاقات بھی کی تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ ادھر مقامی شدت پسند طالبان کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک مذاکراتی جرگہ نے ان سے علاقے میں مستقل فائربندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کی طالبان شورٰی کا فیصلہ ہے کہ وہ فائربندی کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں پر بمباری حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے اور اگر حکومت نے عام شہریوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھ تو حملوں میں مزید تیزی لائی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر حکومت طاقت آزمانا چاہتی ہے تو وہ عام شہریوں پر بمباری کی بجائے کھلے میدان میں طالبان کا سامنا کریں‘۔ |