عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حال میں فوج پر متعدد حملے ہوئے ہیں |
کلعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی نے صوبہ سرحد کی ملاکنڈ ڈویژن میں فوجی قافلے اور اعلی پولیس افسران پر قاتلانہ حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سوات میں مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کا تنظیم کے ساتھ کسی قسم کی کوئی وابستگی نہیں ہے۔ مینگورہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران علاقے میں فوجی قافلے، پولیس افسران اور پولیس سٹیشن پر ہونے والے حملوں کا تعلق کلعدم نفاذ شریعت محمدی سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جو بقول انکے ایک غلط اور بے بنیاد الزام ہے۔ تنظیم کے ضلع سوات کے امیر مولانا عبدالحق کا کہنا تھا کہ انکی تنظیم شرعی نظام کے نفاذ کے لئے پرامن جدوجہد کر نے پر یقین رکھتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ غیرقانونی ایف ایم چلانے والے مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کا کلعدم نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ انہیں تنظیم کے اسیر رہنماء مولانا صوفی محمد نے غیرقانونی ایف ایم چینل بند نہ کرنے کی بنیاد پر تنظیم سے نکال دیاتھا۔  | ملاکنڈ میں آپریشن کی تیاری؟  لال مسجد کے حق میں ہزاروں لوگوں کے اجتماع میں جہاد کا اعلان کرنے والے مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ نے غیرقانونی ایف ایم چینل پر سنیچر کوخطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت ان کے خلاف آپریشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔انہوں نے حکومت کوخبردادر کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کو لال مسجد نہ سمجھیں بلکہ آپریشن کی صورت میں حکومت کو طاقت کا ذائقہ چکھا دیا جائے گا۔  |
کلعدم نفاذ شریعت محمدی نے علاقے میں ہونے والے حملوں اور مولانا فضل اللہ کی تنظیم سے وابستگی سے لاتعلقی کا اظہار ایک ایسے وقت کیا ہے جب حکومت اور مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور حکام کے مطابق فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد مینگورہ پہنچ گئی ہے۔لال مسجد کے حق میں ہزاروں لوگوں کے اجتماع میں جہاد کا اعلان کرنے والے مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ نے غیرقانونی ایف ایم چینل پر سنیچر کوخطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت ان کے خلاف آپریشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔انہوں نے حکومت کوخبردادر کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کو لال مسجد نہ سمجھیں بلکہ آپریشن کی صورت میں حکومت کو طاقت کا ذائقہ چکھا دیا جائے گا۔ تاہم حکومت نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی اور نیم فوجی دستوں کو سرکاری عمارات اور پلوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل اللہ کے خلاف ممکنہ آپریشن میں وہ غیرجانبدار رہیں گے تاہم اگر چادر اور چاردیواری کی عزت کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومتی فورسز کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ نفاذ شریعت محمدی پر جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار دو کے دوران پابندی لگائی تھی۔اس تنظیم کے دس ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر دو ہزار دو کے دوران افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان کے ہمراہ لڑنے کے لیے افغانستان گیا تھا۔ لال مسجد کے خلاف حکومتی آپریشن کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں چار فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ ضلع سوات کےایس ایس پی اور ڈی ایس پی کو دو الگ الگ قاتلانہ حملوں میں زخمی کردیا گیا تھا اور تحصیل مٹہ کے پولیس اسٹیشن پر قبضے کرنے کے دوران راکٹ حملے میں ایک سپاہی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔ |