BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوفی محمد رہائی حکومت کونوٹس

تحریک ِ نفاذِ شریعتِ محمدی کا جلسہ (فائل فوٹو)
لشکر کے بیشتر افراد امریکی بمباری کا نشانہ بن گئے تھے (فائل فوٹو)
سوات میں حکومت سے برسرِ پیکار مولانا فضل اللہ کی کالعدم تحریک ِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد کی رہائی کے لیے دائر پٹیشن کی سماعت میں ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

منگل کو یہ نوٹس پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژن بینچ نے صوبائی سیکریٹری داخلہ اور ڈیرہ اسمعیل خان جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو جاری کیے ہیں۔ ان نوٹسوں میں عدالت نے مولانا صوفی محمد کی گرفتاری کے حوالے سے حکومتی اہلکاروں سے وضاحت طلب کی ہے۔

مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ نے پشاور ہائی کورٹ میں غیر قانونی حراست یا ’حبسِ بیجا‘ کے قانون کے تحت داخل کرائی گئی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے سسر مولانا صوفی محمد کو سات سال کی مدتِ قید پوری کرنے کے باوجود رہا نہیں کیا جا رہا ۔

مقدمہ کے مطابق مولانا صوفی محمد کو بارہ دسمبر دو ہزار ایک کو پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کی انتظامیہ نے اُس وقت گرفتار کر لیا تھا جب وہ تیس کے لگ بھگ ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

سات اکتوبر دو ہزار ایک کو امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد مولانا صوفی محمد کی قیادت میں ہزاروں افراد (جن کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے ملاکنڈ کے علاقے سے تھا) پر مشتمل ایک لشکر افغانستان کے طالبان کے ساتھ امریکی فوجوں کے خلاف لڑنے کے لیے باجوڑ ایجنسی کے راستے افغانستان داخل ہوا تھا۔ اس لشکر کے بیشتر افراد امریکی بمباری کا نشانہ بن گئے تھے۔

صوفی محمد کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے، دھماکہ خیز مواد رکھنے اور بھاری ہتھیار رکھنے کا مرتکب پاتے ہوئے سات سال کی قید کی سزا سنائی دی گئی۔ گو کہ ان کے بیشتر ساتھی ضمانت پر رہا ہوگئے لیکن مولانا صوفی محمد نے اس وجہ سے ضمانت پر رہائی کے لیے عدالت سے رجوع نہ کیا کہ وہ انگریز کے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے رہائی حاصل نہیں کریں گے۔

اُن کے داماد مولانا فضل اللہ نے، جو کہ اب خود بھی حکومت کو سوات میں کشیدگی کے سلسلے میں مطلوب ہیں، عدالت سے استدعا کی ہے کہ مولانا صوفی محمد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے کیونکہ اُنہوں نے اپنی مدتِ قید پوری کر لی ہے ۔

سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
بدھاسیاحوں سے خالی سوات
سوات قدرتی مناظر اور نوادرات کے لیے مشہور ہے
باجوڑ باجوڑ: دس روز بعد
بمباری کے بعد عنایت کلی سے چند تصاویر
باجوڑ’ہر طرف لاشیں۔۔۔‘
باجوڑ پر بمباری، آنکھوں دیکھا حال
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
اسی بارے میں
سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی
28 October, 2007 | پاکستان
سوات میں لڑائی تھم گئی
26 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد