باجوڑ پر بمباری، آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ ایجنسی میں ایک مدرسے پر ہونے والی بمباری کے بعد ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی ایک مقامی رہائشی عمران خان سے بات کی۔ ’میں گھر میں سو رہا تھا کہ اچانک دھماکوں کی آوازوں نے مجھے جگایا۔ یہ پانچ بجے کا وقت تھا۔ پہلے تو لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ بعد میں جب میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ فضا میں طیاروں نے سرخ قسم کا گول دائرہ بنایا ہوا تھا اور ایک ساتھ مدرسے پر بمباری کررہے تھے۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ اس وقت سارا علاقہ لرز رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے سارے علاقے میں خوفناک زلزلہ آیا ہوں۔ حملے کے فوری بعد میں بمباری والی جگہ پر پہنچا تو وہاں عجیب قسم کا منظر تھا۔ ہر طرف لاشیں پڑی تھیں اور مقامی لوگ انہیں اکھٹا کرنے میں مصروف تھے۔ کئی لاشیں ایسی تھی جن کا سر پاؤں معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بکھرے ہوئے تھے جنہیں مقامی لوگ اکھٹا کر کے چارپائیوں میں رکھ رہے تھے۔ میں نے دو درجن سے زائد ایسی لاشیں دیکھی۔ تمام لاشیں بری طرح مسخ اور جلی ہوئی تھیں۔ لاشوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے انہیں جلایا گیا ہو۔ کئی لاشیں ایسی تھیں جن کے ٹکڑے اکھٹا کر کے دفن کیے گئے۔ اس حملے کے بعد سے علاقے میں سخت خوف وہراس ہے اور لوگ سخت خوف کا شکار ہیں۔ باجوڑ ایجنسی کے تمام بازار بند ہیں۔‘ باجوڑ ایجنسی میں ایک مدرسے پر ہونے والی بمباری کے بعد ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے ایک مقامی صحافی اخون زادہ سے بات کی۔ اخون زادہ کا گھر مدرسے کے قریب واقع ہے۔ بمباری کے وقت وہ اپنے گھر پر تھے۔ ’کئی دنوں سے جاسوسی طیارے پرواز کر رہے تھے۔ آج صبح جب میرا گھر اچانک ایک زبردست دھماکے سے لرز اٹھا تو میں فوراً باہر آیا۔ اس کے بعد دوسرا دھماکہ اور ہم نے دیکھا کہ مدرسے میں بمباری ہو رہی ہے۔ ہم وہاں پہنچے، ہم اور علاقے کے دوسرے لوگ تو ہم نے لاشیں نکالنا شروع کر دیا۔ تقریباً تمام لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ بمباری کے وقت تقریباً تراسی طالب علم اس مدرسے میں زھی تعلیم تھے۔ اس مدرسے میں حفظ القرآن اور دوسری کتابوں کی تعلیم دی جاتی تھی اور زیادہ تر طالب علم چھوٹی عمر کے تھے۔ ان میں کوئی بھی غیر ملکی موجود نہیں تھا۔ یہاں کوئی اسلح یا ہتھیار نہیں ہیں، یہ تو صرف ایک حفظ القرآن کا مدرسہ تھا۔ ‘ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||