BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 October, 2007, 03:15 GMT 08:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقامی سطح پر رابطوں کے فقدان کی شکایت

سوات زخمی
سکیورٹی فورسز نےشہری ٹھکانوں کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی تو صورتحال میں مزیدشدت آنےکاامکان ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز اور مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے مابین شروع ہونے والی حالیہ لڑائی میں مقامی انتظامیہ بظاہر ہر محاذ پر غیر فعال نظر آ رہی ہے جس سے عسکریت پسندوں اور حکام کے مابین ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔

مقامی لوگوں اور شدت پسندوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ صورتحال کی خرابی کی ذمہ دار حکومت خود ہے ورنہ ان کے بقول اس معاملے کا حل مقامی سطح پر ممکن ہے۔

وزیرستان کی طرح اب سوات میں بھی حکومت کی طرف سے مقامی انتظامیہ کو استعمال میں لانے کی بجائے تمام معاملات کو پشاور اور اسلام آباد سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوات میں حکومت کی اس حکمت عملی کو ہر طبقے کی طرف سے شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

رابطوں کا فقدان
 سوات میں دو دن کےقیام کے دوران مقامی انتظامیہ مفلوج نظر آئی۔ سرکاری دفاتر تو کھلے رہے تاہم وہاں کوئی اعلیٰ اہلکار دیکھنے کو نہیں ملا۔ تمام منتخب عوامی نمائندے اور ناظمین بھی یہ شکایت کرتے رہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے مقامی سطح پر رابطوں کا فقدان پایا جاتا ہے جس سے ان کے بقول علاقے کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے۔
مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے بھی شکایت کی ہے کہ علاقے میں کشیدگی کو حل کرانے کے لیےمقامی انتظامیہ نے تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے جس سے ان کے مطابق مسئلہ حل ہونے کی بجائے پیچیدگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ وہ اس بات پر مشتعل ہیں کہ مقامی انتظامیہ کی موجودگی میں تمام معاملات کو اسلام آباد اور پشاور سے کیوں کنٹرول کیا جارہا ہے۔

چھ دن قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جبرل وحید ارشد کے مطابق سوات میں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے رضاکاروں سے نمٹنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کئے گئے۔

مقامی لوگ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کو علاقے میں کشیدگی کا بڑا سبب بتا رہے ہیں۔ اس تعیناتی کے ایک دن بعد سوات پولیس لائن کے قریب ایف سی کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم سے کم پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں بظاہر نہ ختم ہونے والی جھڑپیں جاری ہیں جس میں اب تک پچاس کے قریب افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت سکیورٹی فورسز کی ہے جبکہ کچھ اہلکاروں کو گلا کاٹ کر بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سوات میں حکومت کی رٹ کمزور ضرور تھی تاہم حالات اتنے زیادہ کشیدہ نہیں تھے جس طرح آجکل ہیں۔

سوات میں دو دن کےقیام کے دوران مقامی انتظامیہ مفلوج نظر آئی۔ سرکاری دفاتر تو کھلے رہے تاہم وہاں کوئی اعلیٰ اہلکار دیکھنے کو نہیں ملا۔ تمام منتخب عوامی نمائندے اور ناظمین بھی یہ شکایت کرتے رہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے مقامی سطح پر رابطوں کا فقدان پایا جاتا ہے جس سے ان کے بقول علاقے کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے۔

تقریباً ایک ہفتے قبل سوات کے ڈی آئی جی پولیس اور ضلعی رابط افسر کو ایک ہی روز تبدیل کر کے ان کی جگہ دو نئے افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔ نئی پولیس اور سول انتظامیہ کو حالات کی شدت اور سنگینی کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔

نئی انتظامیہ سے جب علاقے کے حالات اور شدت پسندوں سے مذاکرات کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ صرف یہی جواب دیتے رہے ’ہم نے تو کل ہی چارج سنبھالا ہیں ہمیں تاحال تمام صورتحال کا علم نہیں‘۔

سوات میں قیام کے دوران ضلعی رابط افسر ارشد مجید اور ڈی آئی جی اختر علی شاہ سے بار بار رابط کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ایک دفعہ ان کے دفتر بھی گئے لیکن وہ صحافیوں سے ملاقات کرنے سے گریز کرتے رہے۔ ایک موقع پر ضلعی رابط افسر نے کہا کہ ’میں نیا نیا آیا ہوں مجھے فی الحال حالات کا مکمل علم نہیں‘۔

باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے سوات میں آپریشن بند نہیں کیا تو ان کے ساتھی نہ صرف مولانا فضل اللہ کی حامیوں کی مدد کے لیے سوات جا سکتے ہیں بلکہ حکومت کے ساتھ باجوڑ میں جاری امن بات چیت بھی تعطل کا شکار ہوسکتی ہے۔

اگرچہ حکومت نے تاحال سوات میں بڑی کارروائی سے گریز کیا ہے تاہم اگر سکیورٹی فورسز نے شہری ٹھکانوں کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں اور قبائلی علاقوں کی خراب صورتحال میں مزید
شدت آنے کے امکانات ہیں۔

سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
بدھاسیاحوں سے خالی سوات
سوات قدرتی مناظر اور نوادرات کے لیے مشہور ہے
گوتم بدھ کا مجسمہبدھا بچ گیا
بدھا کا مجسمہ بم سے اڑانے کی کوشش
اسی بارے میں
سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی
28 October, 2007 | پاکستان
سوات میں لڑائی تھم گئی
26 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد