مقامی سطح پر رابطوں کے فقدان کی شکایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز اور مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے مابین شروع ہونے والی حالیہ لڑائی میں مقامی انتظامیہ بظاہر ہر محاذ پر غیر فعال نظر آ رہی ہے جس سے عسکریت پسندوں اور حکام کے مابین ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور شدت پسندوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ صورتحال کی خرابی کی ذمہ دار حکومت خود ہے ورنہ ان کے بقول اس معاملے کا حل مقامی سطح پر ممکن ہے۔ وزیرستان کی طرح اب سوات میں بھی حکومت کی طرف سے مقامی انتظامیہ کو استعمال میں لانے کی بجائے تمام معاملات کو پشاور اور اسلام آباد سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوات میں حکومت کی اس حکمت عملی کو ہر طبقے کی طرف سے شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔
چھ دن قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جبرل وحید ارشد کے مطابق سوات میں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے رضاکاروں سے نمٹنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کئے گئے۔ مقامی لوگ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کو علاقے میں کشیدگی کا بڑا سبب بتا رہے ہیں۔ اس تعیناتی کے ایک دن بعد سوات پولیس لائن کے قریب ایف سی کی ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم سے کم پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں بظاہر نہ ختم ہونے والی جھڑپیں جاری ہیں جس میں اب تک پچاس کے قریب افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت سکیورٹی فورسز کی ہے جبکہ کچھ اہلکاروں کو گلا کاٹ کر بھی ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سوات میں حکومت کی رٹ کمزور ضرور تھی تاہم حالات اتنے زیادہ کشیدہ نہیں تھے جس طرح آجکل ہیں۔ سوات میں دو دن کےقیام کے دوران مقامی انتظامیہ مفلوج نظر آئی۔ سرکاری دفاتر تو کھلے رہے تاہم وہاں کوئی اعلیٰ اہلکار دیکھنے کو نہیں ملا۔ تمام منتخب عوامی نمائندے اور ناظمین بھی یہ شکایت کرتے رہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے مقامی سطح پر رابطوں کا فقدان پایا جاتا ہے جس سے ان کے بقول علاقے کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے۔ تقریباً ایک ہفتے قبل سوات کے ڈی آئی جی پولیس اور ضلعی رابط افسر کو ایک ہی روز تبدیل کر کے ان کی جگہ دو نئے افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔ نئی پولیس اور سول انتظامیہ کو حالات کی شدت اور سنگینی کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔ نئی انتظامیہ سے جب علاقے کے حالات اور شدت پسندوں سے مذاکرات کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ صرف یہی جواب دیتے رہے ’ہم نے تو کل ہی چارج سنبھالا ہیں ہمیں تاحال تمام صورتحال کا علم نہیں‘۔ سوات میں قیام کے دوران ضلعی رابط افسر ارشد مجید اور ڈی آئی جی اختر علی شاہ سے بار بار رابط کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ایک دفعہ ان کے دفتر بھی گئے لیکن وہ صحافیوں سے ملاقات کرنے سے گریز کرتے رہے۔ ایک موقع پر ضلعی رابط افسر نے کہا کہ ’میں نیا نیا آیا ہوں مجھے فی الحال حالات کا مکمل علم نہیں‘۔ باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے سوات میں آپریشن بند نہیں کیا تو ان کے ساتھی نہ صرف مولانا فضل اللہ کی حامیوں کی مدد کے لیے سوات جا سکتے ہیں بلکہ حکومت کے ساتھ باجوڑ میں جاری امن بات چیت بھی تعطل کا شکار ہوسکتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے تاحال سوات میں بڑی کارروائی سے گریز کیا ہے تاہم اگر سکیورٹی فورسز نے شہری ٹھکانوں کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں اور قبائلی علاقوں کی خراب صورتحال میں مزید |
اسی بارے میں سوات:عارضی جنگ بندی کا اعلان29 October, 2007 | پاکستان سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی28 October, 2007 | پاکستان جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون27 October, 2007 | پاکستان سوات میں تجارتی سرگرمیاں متاثر27 October, 2007 | پاکستان سوات میں لڑائی تھم گئی26 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||