BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان

صدر مشرف
ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو کیا تھا
پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے ہاتھوں ایمرجنسی کے نفاذ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رکن ممالک کیطرف سے بحث کا امکان ہے۔

یہ بات بدہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے ترجمان نے صحافیوں کو بریفنگ میں بتائی۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر اکرم منیر سے ملاقات کے بعد بھی کہا کہ وہ پاکستان میں موجودہ صورتحال پر اپنی سخت تشویش اور عاصمہ جہانگیر اور وکلاء سمت تمام گرفتار شدگان کی فور ی رہائي کے زبردست مطالبے والے اپنے بیان پر اب بھی قائم ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اپنے بیان پر قائم رہنے والا یہ بیان ان کے ترجمان کے دفتر سے جاری کیا گیا ہے جو بان کی مون نے اپنے لاطینی امریکہ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل کچھ صحافیوں سے بات چیت کے دوران دیا تھا۔ ،

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر کی ملاقات کے بعد بھی پاکستان میں ایمرجنسی اورا سکے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر پاکستانی حکومت سے ایک بار پھر جہموریت کی بحالی اور وکلاء اور سیاسی رہنماؤں سمیت تمام افرا کو فوری طور پر رہا کرنے کو کہا ہے جن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ماہر عاصمہ جہانگیر بھی شامل ہیں۔

گزشتہ روز لاطینی امریکہ کے دورے پر جانے سے قبل سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے پاکستان کے سفیر منیر اکرم سے انکی خواہش پر ملاقات کی تھی اور ان سے میں نے پھر جو کچھ پاکستان میں ہوا ہے اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا میں نے اس پر پوری شدت سے زور دیا کہ حکومت پاکستان ملک میں جمہوری آئين و قانون کی حکمرانی جتنا جلد ہوسکے بحال کردے اور وہ سیاستدانوں، وکلا، اور قوام متحدہ کی مذہبی آزادیوں کے متعلق خاص ایلچی عاصمہ جہانگير کو فوری طور پر رہا کرے۔

یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے انکی طرف سے پاکسان میں عاصمہ جہانگیر سمیت سینکڑوں سیاسی رہنمائوں اور وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر اپنی سخت تشویش کااظہار کرتے ہوۓ انکی فوری رہائي کا طالبہ کیا تھا۔

سیکریٹری جنرل نے لاطینی امریکی دور کی پہلی منزل آرجینٹائن روانہ ہونے سے قبل ان سے بات جیت کرنے والے صجافیوں کو بتایا کہ وہ پاکستان کی صورتحال پر اپنی سخت تشویش اور گرفتار شدگان کی رہائي کے اپنی پرزور مانگ والے پہلے بیان پر اب بھی قائم ہیںۓ

دوسری طرف، اقوام متحدہ میں صحافی کے اس سوال کہ ایک طرف اقوام متحدہ دنیا میں جمہوریت کی بحالی کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف تمام بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے پاکستان میں جہموریت کی بیخ کنی کی جارہی ہے لیکن ابتک جنرل اسمبلی کے صدر کیطرف سے اسکی مذت نہیں آئي اس سوال کے جواب میں جنرل اسمبلی کے ترجمان نے کہا کہ اب تک جنرل اسبملی کے صدر نے پاکستان کی صورتحال پر بیا ن جاری نہیں کیا لیکن اس بات کا امکان ہے کہ اگر رکن ممالک پاکستان کے موجودہ صورتحال کو جنرل اسبملی میں اقوام متحدہ کطیرف سے جمہوریت کی ترقی اور بحالی میں حکومتوں کی مدد کرنے کے متعلق انسانی حقوق کی کونسل کے مسودہ قرارداد پر بحث کے دوران پاکستان کی مجودہ صوتحال کو بھی زیر بحث لا سکتے ہیں۔

نیو میڈیا’پاک‘ نیو میڈیا
غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
 احتجاجاحتجاج تھما نہیں
ایمرجنسی کے خلاف طلبا، وکلاء سراپا احتجاج
قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
اسی بارے میں
بان کی مون پر پاکستان ناراض
07 November, 2007 | پاکستان
کراچی: ڈش انٹینا ڈی کوڈر ضبط
07 November, 2007 | پاکستان
لمز میں طلباء کا احتجاج جاری
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد