لمز میں طلباء کا احتجاج جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں پولیس کی بھاری نفری نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز یعنی لمزکوگھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس نجی ادارے کے طلبہ اور چند اساتذہ تین روز سے ملک میں نافذ ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے چند سیاسی مطالبات میں سے ایک مطالبہ صدر جنرل مشرف کے استعفی اور ملکی سیاست سے ان کے کردار کے مکمل خاتمے کا ہے۔ بدھ کو طلبہ وطالبات نے یونیورسٹی کے اندر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ سینکڑوں طلبہ نے ایک جلوس کی شکل میں یونیورسٹی کے احاطے کے اندر چکر لگایا۔ وہ نعرے لگا رہے تھے گو مشرف گو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، مارشل لاء نامنظور۔ مظاہرین نے رنگ برنگے پوسٹراور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا مختلف نعرے درج تھے، کئی پوسٹروں پر حبیب جالب کی نظم ’ہم نہیں مانتے ایسے دستور کو‘کے مختلف شعر لکھے تھے۔ اس یونیورسٹی میں ڈھائی ہزار کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں اور بھاری فیس کی وجہ سے تقریبا تمام کا تعلق ملک کے طبقہ اشرافیہ سے ہے۔ ان طلبہ نے کوریج کے لیے ذرائع ابلاغ کو بھی اطلاع کررکھی تھی لیکن میڈیا کے نمائندے آنے سے پہلے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوچکی تھی۔ جس نے یونیورسٹی کا محاصرہ کرلیا ۔پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو اندر جانے سے روک دیا اور چند صحافیوں سے بدسلوکی کی۔ جدید تراش کی پتلونیں اور شرٹس میں ملبوس طلبہ وطالبات اور ان کے چند اساتذہ نے یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اس سے قبل یونیورسٹی کے احاطے میں ہونے والے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ وطالبات نے احتجاج کے سلسلے کو جاری اور برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس یونیورسٹی میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیصل باری نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ دو طرفہ دباؤ کا شکار ہے۔ان کے بقول انتظامیہ اس حق میں ہے کہ طلبہ کو اپنے رائے کے اظہار کا مکمل حق ہونا چاہیے لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ طلبہ نے بدھ کو ڈیفنس کے لالک جان چوک میں احتجاج کا پروگرام بنایا تھا لیکن پولیس حکام نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیااور انہیں احتجاج کو یونیورسٹی کے اندر تک محدود کرنے پر مجبور کیا۔ سارا دن یونیورسٹی کو کئی درجن پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لیے رکھا۔اس یونیورسٹی کے طلبہ پیر کو ہائی کورٹ میں مظاہرہ کیا تھا جہاں پولیس تشدد کے بعد چند طلبہ پکڑے گئے لیکن پولیس نے چند گھنٹوں کے بعد انہیں چھوڑدیا۔ یونیورسٹی کےدواساتذہ انسانی حقوق کمشن کے دفتر میں ایک اجلاس کےدوران پکڑے گئے تھے جو دو روز کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مقامات سے دو دیگر اساتذہ گرفتار ہوئے۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر فیصل باری نے کہا کہ پولیس نے طلبہ اور اساتذہ کو گرفتاری کے موقع پر مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے طلبہ میں مزید اشتعال ہے۔ پولیس شناخت کارڈ دیکھے بغیر طلبہ کو یونیورسٹی میں نہیں جانے دے رہی۔اس یونیورسٹی کے چند طلبہ نے لاہور کے دیگر اعلی تعلیمی اداروں کے طلبہ سے بھی رابطے کیے ہیں۔ ایک طالبعلم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے انجینئرنگ یونیورسٹی، یونیورسٹی کالج لاہور اور فاسٹ کے طلبہ سے بھی رابطے ہیں۔ لاہور کے ایک دوسرے تعلیی ادارے ’فاسٹ‘میں بھی طلبہ وطالبات نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا پولیس نے طلبہ کو واپس کیمپس کے اندر دھکیل دیا۔ رات گئے تک پولیس مذکورہ دونوں تعلیمی اداروں کے باہر تعینات رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||