BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 November, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: ڈش انٹینا ڈی کوڈر ضبط

کراچی میں ڈش انٹینا
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نجی ٹی وی چینلز کی کیبل کے ذریعے نشریات بند کردی گئیں
کراچی پولیس نے بدھ کو صدر الیکٹرانک مارکیٹ میں ڈش انٹینا اور ڈی کوڈر فروخت کرنے والی دکانوں پر چھاپے مار کر تمام سامان ضبط کرلیا۔ دکانداروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے چینلز پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے تھے۔

واضح رہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نجی ٹی وی چینلز کی کیبل کے ذریعے نشریات بند کردی گئیں جس کی وجہ سے ڈش انٹینا کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔
پولیس کارروائی کے باوجود متاثرہ دکانداروں یا کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ دکاندار اور ایسوسی ایشن کے عہدیدار اس کارروائی پر بالکل خاموش اور خوفزدہ ہیں۔

(دکاندار حضرات خوف کی وجہ سے اپنا نام ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں) ایک دکاندار نے بتایا کہ پولیس کارروائی کے بعد جن دکانوں پر چھاپے مارے گئے تھے انہوں نے اپنی دکانوں کو بعدازاں بند کردیا کیونکہ ان کے پاس فروخت کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔

ایک اور دکاندار نے بتایا کہ کراچی میں کیبل نیٹ ورک متعارف ہونے کے بعد ڈش انٹینا کی فروخت میں بہت کمی آئی تھی اور کئی دکانداروں نے اس کاروبار کو ترک کردیا تھا۔ اب صدر الیکٹرانک مارکیٹ میں بمشکل درجن سے بھی کم دکانیں رہ گئیں ہیں جو ڈش انٹینا اور ڈی کوڈرز فروخت کرنے کا کاروبار کررہی ہیں۔

دکاندار نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل ایک ہفتے میں دو سے تین ڈش فروخت ہوتی تھیں لیکن ایمرجنسی کے نفاذ اور نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کے

کارروائی کسٹم ایکٹ کے تحت
 یہ کارروائی کسٹم ایکٹ کے تحت کی گئی کیونکہ کچھ درآمد شدہ سامان ایسا ہوتا ہے جو بغیر لائسنس کے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی نشریات پر پابندی کو وہ آلات جو پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے اہل ہوں قابل گرفت ہوتے ہیں
بعد سے فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی سے قبل ایک ڈش انٹینا کی ریسیور سمیت قیمت ساڑھے چھ ہزار روپے تھی جو چینلز پر بندش کے بعد بڑھ کر اٹھارہ ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ دوسری جانب گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری کرنا دشوار ہوگیا ہے۔

پولیس کارروائی کے بارے میں ایس پی صدر ٹاؤن کیپٹن ریٹائرڈ طاہر نوید نے بتایا کہ یہ کارروائی کسٹم ایکٹ کے تحت کی گئی کیونکہ کچھ درآمد شدہ سامان ایسا ہوتا ہے جو بغیر لائسنس کے فروخت نہیں کیا جا سکتا اور اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی نشریات پر پابندی کو وہ آلات جو پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے اہل ہوں قابل گرفت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ مختلف وفاقی ایجنسیوں کے اہلکار بھی کارروائی میں شامل تھے جنہوں نے کسٹم ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام آلات کو ضبط کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تفتیش میں اس بات کا علم ہوگا کہ ان دکانداروں کے پاس لائسنس تھا یا نہیں اور جن کے پاس لائسنس ہوا تو ان کے ضبط کیے گئے آلات واپس کردیے جائیں گے اور جو غیر قانونی طور پر ان آلات کی فروخت میں ملوث پائے گئے تو ایسے دکانداروں کی گرفتاری بھی عمل میں آسکتی ہے۔

قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
 احتجاجاحتجاج تھما نہیں
ایمرجنسی کے خلاف طلبا، وکلاء سراپا احتجاج
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی حکومت کی’ آفرز‘
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر کئی پیشکشیں
نیو میڈیا’پاک‘ نیو میڈیا
غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ
لاہور میں احتجاجاحتجاج جاری ہے
احتجاج اور گرفتاریوں کا تیسرا دن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد