پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور سینکڑوں کارکنوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کی ترجمان فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ ان کے لگ بھگ آٹھ سو کارکن گرفتار ہوچکے ہیں اور ابھی گرفتاریوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی تاحیات چئر پرسن بے نظیر بھٹو نے بدھ کو راولپنڈی میں جلسہ عام اور اس کے بعد لاہور سے مشرف حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت پنجاب نے ضلعی حکومت کی رپورٹ پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا تھا اور وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کا تھا کہ پیپلز پارٹی کو لاہور میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان دونوں اعلانات کے بعد بدھ کو رات گئے اچانک پیپلز پارٹی کے خلاف پولیس آپریشن کا آغاز ہوگیا۔ ایک پولیس انسپکٹر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پربتایا کہ انہیں وائرلیس پر پیغام ملا کہ پیپلز پارٹی کے سرگرم کارکنوں اور مقامی عہدیداروں کو حراست میں لیا جائے جس کے بعد سے وہ گرفتاریاں کر رہے ہیں۔ گرفتار کارکنوں کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس کئی کارکنوں اور عہدیداروں کے گھروں میں سیڑھیاں لگا کر کودی ہے۔ انہوں نے پولیس کی بدسلوکی کی شکائت کی ہے۔
پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ساری رات بھر جاری رہا اور بڑی تعداد میں کارکن اور رہنما روپوش ہوگئے ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں گرفتاریوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب میں وکلاء کے علاوہ مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن اور رہنماؤں کو گرفتار و نظر بند کیا گیا تھا۔ سب سے بڑی تعداد مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی ہے۔ مسلم لیگ نون کے ترجمان کے مطابق صرف انہی کے ڈھائی ہزار کے قریب کارکن گرفتار ہیں۔ اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے گرفتار کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور بعض سیاسی حلقوں نے گرفتاری نہ ہونے کو مشرف بے نظیر مفاہمت کی ایک کڑی قرار دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بینظیر کے پنجاب میں حکومت مخالف جلسے جلوس کرنے کے اعلان کے بعد اس کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے بظاہر یہ تاثرملتا ہے حکومت کو ان کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||