بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو تقریباً نو سال کے بعد پنجاب کے دارالحکومت لاہور پہنچ گئی ہیں۔ائر پورٹ سے وہ سیدھا داتا دربار گئیں جہاں انہوں نے فاتحہ پڑھی اور چادر چڑھائی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے لاہور پاکستان کا دل ہے اور یہاں پہنچ کر وہ ایک نیا جذبہ اور طاقت محسوس کررہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو لاہور ائر پورٹ پہنچیں تو وہاں دو تین سو کارکن اور پیپلز پارٹی کے عہدیدار موجود تھے جنہوں نے پیپلز پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ کارکنوں نے انہیں دیکھتے ہی وزیر اعظم بے نظیر کے نعرے لگانےشروع کر دیے۔ لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ پر انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تازہ آرمی ایکٹ کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا آرمی ایکٹ جس کے تحت شہریوں کے خلاف بھی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا وہ غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے اور فوج کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔
بے نظیر نے کہا کہ عوام فوج سے صرف مادر وطن کےدفاع کا کام لینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور ان میں اب عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے ایک غیر جانبدار قومی حکومت کے مطالبہ کا آعادہ کیا اور کہا کہ اسی کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات ممکن ہیں۔
لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور پولیس نے ائر پورٹ کے اردگرد تقریباً دس کلومیٹر کے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا مال روڈ سے ائر پورٹ تک کم از کم دس ناکوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ پولیس اہلکار گاڑیاں روک کر صرف ہوائی سفر کے ٹکٹ رکھنے والے کارکنوں کو جانے دے رہے تھے، عام گاڑیوں کو ائر پورٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پ
حکومت پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے میں فی الحال کسی کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے تین چار روز کے دوران صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پکڑ رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ ائر پورٹ پر صحافیوں نے بے نظیر سے پوچھا کہ کیا ان رکاوٹوں میں لانگ مارچ ممکن ہوگا؟ بے نظیر نے جواب دیا کہ اس وقت حکومت شکست خوردہ ہے، اگر لانگ مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو عوام کا سیلاب نکلے گا اور اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو اسے روکنے کے لیے تعینات پولیس کی بھاری نفری سے اس کی اہمیت اور حثیت کا اندازہ ہوجائےگا۔ لاہور کے سنئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس آفتاب چیمہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری بے نظیر کی حفاظت کے لیے تعینات کردی گئی ہے اور پولیس کمانڈوز سے بھری پانچ گاڑیاں چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رہیں گی۔ |
اسی بارے میں لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش10 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کے صوبائی صدر گرفتار10 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ10 November, 2007 | پاکستان جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم 12 April, 2007 | پاکستان پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||