BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 21:23 GMT 02:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم

جئے سندھ محاذ
پاکستان اور مذہب کے نام پر سندھی قوم کو غلام بنایا گیا ہے: جئے سندھ محاذ
جئے سندھ قومی محاذ کا لانگ مارچ ساڑھے چھ سو کلومیٹر کا فاصلے چھبیس دن میں طے کرکے کراچی میں اختتام پذیر ہوگیا۔ کراچی پہچنے پر سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں نے مارچ کا استقبال کیا اور ہزاروں لوگ اس میں شامل ہوگئے۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کی قیادت میں سندھ سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگی، بلوچستان میں آپریشن کے خلاف اور وسائل پر صوبائی حقوق کے لیے سکھر میں اٹھارہ مارچ کو اس جگہ سے یہ لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا، جہاں برطانوی دور حکومت میں حریت پسند رہنما ہیموں کالانی کو پھانسی دی گئی تھی۔

چھبیس دن کے پیدل سفر کے بعد آج یہ لانگ مارچ صوبائی دارالحکومت پہنچا، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل پارٹی، عوامی تحریک سمیت دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی اس میں شامل ہوگئے۔

جلوس میں شامل کارکنوں نے ہاتھوں میں جئے سندھ تحریک کا نشان کلہاڑی، اور جی ایم سید کی تصاویر اٹھائی ہوئی تھیں اور وہ نعرے لگا رہے تھے۔شاہراہ فیصل پر جلوس پر پھول نچھاور کئے گئے۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اور مذہب کے نام پر سندھی قوم کو غلام بنایا گیا ہے وہ اس غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ان کے کئی ساتھی فوج نے اٹھالیے ہیں، ڈاکٹر صفدر سرکی کو پندہ ماہ گزر گئے ہیں مگر ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ آج تک پتہ نہیں کہ انہیں اٹھایا گیا ہے یا قتل کیا گیا ہے، آصف بالادی اور بشیر شاہ سمیت سندھ کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں کئی سیاسی کارکنوں کو گم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ساڑھے سات ہزار بلوچ کارکنوں کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

مظاہرین نے جی ایم سید کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے

بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کہتے ہیں کہ جو لوگ لاپتہ ہیں وہ جہادی تنظیموں میں شامل ہوگئے ہیں، مگر سندھی امن کے پیروکار ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی قدیم تہذیب موہن جودڑو سے کوئی ہتھیار نہیں ملا ہے۔

انہوں نے کہا سندھی مکمل طور پر غلام بن چکے ہیں اور وہ کسی صورت میں پاکستان میں پنجاب کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ سندھی اور بلوچ قوم کا کیا قصور ہے،جس کی انہیں سزا دی جاری ہے ، بلوچوں کا قتل عام اور سندھیوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھیوں کو پاکستان فوج، اینجسیوں سے نجات دلوائی جائے ، سندھیوں اور بلوچوں پر مظالم بند کروائے جائیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں آپریشن بند کیا جائے، اختر مینگل کو آزاد کیا جائے اور تمام وسائل پر سندھ کا حق تسلیم کیا جائے۔

بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ سندھ کے پاس صوفی ازم کا پیغام ہے جس کے ذریعے پوری دنیا سے دہتشگردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد