پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے منگل کو پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ایک حکومت مخالف مظاہرے پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس چلائی۔ پولیس کے مطابق چھ افراد کو گرفتار جبکہ اس تصادم میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حکومت نے پیر کو صحافیوں کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج بھی نہیں کرنے دی۔ تاہم حزب اختلاف سے عاری اسمبلی نے ہنگامی حالت کے نفاذ کی ایک قرار داد کے ذریعے توثیق بھی کی۔ پیلپز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کا ایک اخباری کانفرنس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس کے موقع پر پارٹی کے اراکین اسمبلی نے مرکزی مخدوم امین فہیم کی قیادت میں تقریبا دو سو کارکنوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کی کوشش کی۔ اس پر وہاں موجود بھاری تعداد میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان دھکم پیل شروع ہوئی جس پر پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس چلائی۔
پارٹی کارکنوں نے پارٹی پرچم اور بےنظیر بھٹو کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ ایک کارکن میاں عمران نیازی سے پوچھا کہ جلسے جلوس پر پابندی کے باوجود وہ کیوں مظاہرہ کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ساری پابندیاں حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیئے کیا ہیں۔ ’چوہدری صاحب کو روزانہ جلسے منعقد کر رہے ہیں پنجاب میں۔‘ ایک گاڑی پر نصب سپیکر سے فیض احمد فیض کا مشہور ترانہ آزادی بھی سنایا جاتا رہا۔ احتجاج میں موجود پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان سے پوچھا کہ آیا آج پارلمنٹ پر چڑھائی کی کوشش ان کی جماعت کے کافی عرصے تک حکومت کی جانب نرم رویے کے بعد سختی کا مظہر ہے تو ان جواب تھا کہ ان کی پارٹی نے مہذب راستہ اختیار کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی جماعت اب جنرل مشرف کے خلاف ’آل آوٹ‘ احتجاج کرے گی تو ان کا جواب ہاں نہیں یہ تھا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات میں مصروف ہیں اور ان کی جماعت کا کل ایک اجلاس بھی ہوگا جس میں احتجاجی تحریک سے متعلق مزید فیصلے ہوں گے۔
طلبہ نے سروں پر فوجی آمریت نامنظور کے نعرے لکھی پٹیاں باندیوں ہوئی تھیں۔ بعض وکلا نے حکومت مخالف شاعری بھی کی۔ مظاہرین بعد میں پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کو لاہور میں ریلی نکالنے اور راولپنڈی میں جلسہ عام کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ وزیر قانون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کی ضلعی حکومت نے حفاظتی نکتہ نظر سے نو نومبر کو جلسہ کی اجازت نے دینے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ فیصلہ جب حکومت پنجاب تک پہنچا تو اس نے اس کی توثیق کی ہے۔ راجہ بشارت نے کہا کہ اس کے باوجود اگر بے نظیر بھٹو نے پریس کانفرنس میں جلسہ کا اعلان کیا ہے کہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک بار پھر اس فیصلے پرضلعی حکومت نظر ثانی کرے گی اور جب وہ اسے مشورے کے لیے پنجاب حکومت کو بھجوائے گی تو حالات کے مطابق فیصلہ ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ اب تک کا فیصلہ اجازت نہ دینے کا ہے۔ جب وزیر قانون سے پوچھا گیا کہ بے نظیر نے لاہور سے لانگ مارچ کی کال دی ہے تو کیا اس کا اجازت ہے تو انہوں نے کہا کہ ایک بات تو واضح ہے کہ ریلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے لیے بھی پیپلز پارٹی کو ضابطے کے مطابق جلسہ جلوس کے لیے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی کیونکہ جلسے کی منظوری بھی مقامی حکومت نے دینا ہوتی ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں جلسہ جلسوں پر پابندی ہے اور دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے،پیپلز پارٹی کوئی سرگرمی کرنےسے پہلے مقامی حکومت سے ضرور اجازت لے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||