لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مختلف حصوں میں پولیس نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور سینکڑوں کارکنوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پیپلز پارٹی پنجاب کی ترجمان فرزانہ راجہ نے کہا ہے پنجاب بھر سے ان کے ایک ہزار سے زائد کارکن گرفتار ہوچکے ہیں اور پولیس مسلسل کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گھر گھر سے ٹیلی فون آرہے ہیں اور گرفتاریوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ گرفتاریاں پورے ملک میں ہورہی ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق سندھ سے بھی چھ سو سے زائد گرفتار ہو چکےہیں۔ اطلاعات کے مطابق سب زیادہ تعداد میں کارکن راولپنڈی سے پکڑے گئے جن کی تعداد سوسے زائد بتائی جاتی ہے۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لاہور سے اسی کے قریب کارکن گرفتار کیے گئے ہیں، ضلع گوجرانوالہ سے اٹھاسی، سیالکوٹ سے چھیالیس گرفتار ہوئے، فیصل آباد سے دیگر کارکنوں کے علاوہ ایک رکن پنجاب اسمبلی اصغرعلی قیصر کے حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر اور مقامی یونین کونسلوں کے ناظم اور کونسلر بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں البتہ صوبائی اور ضلعی سطح کے کسی عہدیدار کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ تھانوں میں بھی دیگر پارٹیوں اور وکلاء قیدیوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ نسبتا نرم رویہ روا رکھا گیاہے۔
اسلام آباد میں بار کا ہنگامی اجلاس بار کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور نائب صدر طارق محمود کو اڈیالہ اور ساہیوال جیلوں میں قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ایسو سی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک کو اٹک جیل جبکہ علی احمد کُرد کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں مبینہ طور پر آئی ایس آئی کے اہلکار تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ایک اور رہنما امداد علی اعوان کو ادویات مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان الزامات کی تصدیق کے لئے سرکاری اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ بار کے نائب چیئرمین مرزا عزیز بیگ اور اراکین سید قلب حسن اور حامد خان کے دستخط سے جاری کیے گئے بیان میں وکلاء اور ذرائع ابلاغ کے احتجاجی جذبے کی بھی تعریف کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کے روز اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا بھی ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آئین اور برطرف کیے گئے ججوں کو فوری طور پر بحال کرے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بار کونسل کے ہر فیصلے کا احترام کیا جائے گا اور ہڑتال کےضمن میں کونسل جو بھی فیصلہ کرے گی ڈسٹرکٹ بار اُس کا احترام کرے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سے آئین اور ججوں کی بحالی تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اجلاس کے بعد وکلاء کی بڑی تعداد نے کچہری کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نےبینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر ملک میں ایمرجنسی اور نئے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ وکلاء نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی بعدازاں وکلاء احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے ۔ پولیس کی بھاری نفری ضلع کچہری کے اردگرد موجود تھی۔ دوسری طرف ایمرجنسی کے نفاذ کے پانچویں روز بھی شاہراہ دستور اور سپریم کورٹ کا علاقہ عوام کے لیے نو گو ایریا بنا ہوا ہے اور کسی کو بھی اس علاقے میں جانےکی اجازت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے ان وکلاء کو جنہو ں نے مقدمات کی پیشی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونا تھا ان کو انٹری پاسز جاری کیے ہیں۔
سندھ کے شہروں میں شٹر ڈاؤن پاکستان بار کونسل کے رکن یاسین آزاد نے بتایا کہ جنرل باڈی کےاجلاس کے بعد جسٹس ریٹائرڈ ابو الانعام کو بار روم سے نکلتے ہیں گرفتار کرلیا گیا، جبکہ سینئر وکلا عبدالحفیظ لاکھو، اختر حسین، محمود الحسن اور ان سمیت آٹھ وکلا کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے احکامات جاری کیےگئے ہیں۔ یاسین آزاد نے بتایا کہ وہ اس وقت بار روم میں موجود ہیں اور یہاں سے نکل کر گرفتاری پیش کردیں گے جبکہ خدشہ ہے کہ دیگر وکلاء کو ان کے گھروں سے گرفتار کرلیا جائیگا۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد ان وکلاء نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو تمام فیصلوں کی مجاز تھی اور وکلاء تحریک کو آگے لیکر چل رہی تھی۔ دوسری جانب وکلاء کے حاضر نہ ہونے پر عدالتوں نے مقدمات خارج کرنا شروع کردیا ہے، یاسین آزاد نے کہا کہ موکلوں کا دباؤں بڑھ رہا ہے اور وکلا نے انہیں کہا ہے کہ وہ خود جاکر عدالتوں میں پیش ہوں۔ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف سندھ کی کئی شہروں میں جمعرات کو شٹر بند ہڑتال ہے اور سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا دیگر قوم پرتس جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی نے بھی حمایت کی تھی، کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ پہلا بڑا احتجاج ہے۔ بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ سمیت جیکب آباد، گھوٹکی، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، جامشورو، سمیت کئی شہر مکمل طور بند ہیں، جبکہ میر پور خاص، نوابشاھ میں جزوری ہڑتال رہی ہے۔ صوبے کے دونوں بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں سندھی آبادی والے علاقوں میں کاروبار بند رہا ہے۔ آٹھ وکلاء کے خلاف بغاوت کا مقدمہ سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر نمبر 114 پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ 124 اے 34 کے تحت درج کی گئی جو بغاوت کے زمرے میں آتی ہے جو قانوں کے تحت ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔ سٹی کورٹ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد وکیلوں میں مقبول الرحمان ایڈوکیٹ، جاوید تنولی ایڈوکیٹ، صابر تنولی ایڈوکیٹ، محمد اسلم بھٹہ ایڈوکیٹ، مسعود الرحمان ایڈوکیٹ، عمران خان ایڈوکیٹ، خرم ایڈوکیٹ اور خاتون وکیل جمیلہ منظور شامل ہیں۔ مقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر چوہدری نظیر کا کہنا ہے کہ نامزد وکلاء نے چھ نومبر کو اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ایک میٹنگ منعقد کی تھی جس میں اُنہوں نے ایک پمفلیٹ بنا کر وکلاء میں تقسیم کیا تھا جس میں ملک میں لگنے والی ایمرجنسی اور موجودہ حکومت کے خلاف مواد تحریر کیا گیا تھا۔ پولیس افسر کے مطابق پمفلیٹ میں تحریر تھا کہ ایمرجنسی صرف عدلیہ کے خلاف لگائی گئی ہے جبکہ وزیرِ اعظم اور دیگر لوگ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق بغاوت کے مقدمے میں نامزد وکلاء نے ملک کے موجودہ حالات میں بیرونی قوتوں سے مداخلت کی بھی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد تمام وکیل فرار ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کے لئے کراچی بار ایسوسی ایشن اور اُن کے نجی دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ پشاور میں عدالتوں کا بائیکاٹ
پشاور ہائی کورٹ میں دو عدالتیں سارا دن کھلی رہیں جس میں عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے والے جج موجود رہے لیکن سرکاری وکلاء کے علاوہ کوئی وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوسکا۔ پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر وکلاء نے پولیس کی سخت سکیورٹی میں ایک جلسے کا اہتمام بھی کیا جس میں وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے پاکستان بھر میں وکلاء کی بڑی تعداد میں حراست کی سخت الفاظ میں مزمت کی۔ اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کے عمارت کے اندر ایک بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا گیا ہے جو صبح سے لیکر عدالتوں کا وقت ختم ہونے تک جاری رہتا ہے۔ کیمپ میں ایک درجن کے قریب وکلاء موجود رہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے اندر اور باہر گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اج سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ کے برامدے اور عدالتوں کے دروازوں پر پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ ہائی کورٹ کے عمارت باہر بھی بھاری نفری تعینات تھی۔ |
اسی بارے میں سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم07 November, 2007 | پاکستان سندھ میں ہڑتال، وکلاء کی گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||